Corona

کُرونا

یہ سُنتے ہیں کُرونا نے بڑی ہلچل مچائی ہے

جو سچ پُوچھو تو سب اپنی یہی کِیتی کمائیؔ ہے

کھڑے ہو آوریزوںؔ میں نہاتے ہیں، تو کیا ھم ہیں؟

کہ ماس اپنے ہی بھائی کا چباتے ہیں، تو کیا ھم ہیں؟

دھڑلّے سے دبا کے سُود کھاتے ہیں، تو کیا ھم ہیں؟

پھر اپنے آپ کو انساں کہاتے ہیں، تو کیا ھم ہیں؟

خدا کی اور سے یہ اِنضباطی کاروائی ھے

یہ سُنتے ہیں کُرونا نے بڑی ھلچل مچائی ھے

ھمارے چارسُو اِیمان کے کمزور بستے ہیں

یہ موقع کے پُجاری ہیں، مُنافع خور بستے ہیں

وہ افسر ہوں، سیاست دان یا ہوں عام سے شہری

جہاں جھانکو، جہاں دیکھو وہاں پر چور بستے ہیں

غبن جس نے کیا ہے، ایک مُنصف کا وہ بھائی ہے

یہ سُنتے ہیں کُرونا نے بڑی ھلچل مچائی ھے

ہوس کے واسطے رضیہؔ ہے، زینبؔ ہے، یشودھاؔ ھے

کِسی دن خُود پڑے ھو گے گڑھا جو تم نے کھودا ھے

کبھی تو عرش تک اُس کی صدا بھی جا ہی پہنچے گی

جِسے بودا سمجھ رکھا ھے مت بھولو وہ جودھا ھے

قیامت کم نہیں، جو تُم نے اُس کُنبے پہ ڈھائی ھے

یہ سُنتے ہیں کُرونا نے بڑی ھلچل مچائی ھے

نہیں محفُوظ تُم سے جانور بھی، کیسے انساں ھو؟

مُجھے تو خوف آتا ھے کہ تُم سفّاک حیواں ھو

کِسی سے بول مِیٹھے کیوں گراں تُم کو گُزرتے ہیں

بھلا کیا بدظنی ایسی، بھلا کیوں خُود سے نالاں ھو

چلو توبہ کریں مل کر، مُقدّر آزمائی ہے

یہ سُنتے ہیں کُرونا نے بڑی ھلچل مچائی ھے

کسی کی آہ سے ڈرتے نہیں ھم وہ سِتمگر ہیں

نہیں ھے عاجزی، کہتے ہیں اک دُوجے سے برتر ہیں

کِسی کی مُسکراتی زِندگی کو بد مزہ کر کے

بناوٹ ایسی کرتے ہیں وفا کے جیسے پیکر ہیں

مِرے مولا تِرے در پر دُہائی ھے، دُہائی ھے

یہ سُنتے ہیں کُرونا نے بڑی ھلچل مچائی ہے

جو اِیجادات کے قائل ہیں ان سے بس یہی کہنا

کہاں وہ ایٹمی طاقت، کہاں بے نام سا کِیڑا

سبھی کُچھ ھو کے بھی اِنسان کتنا بے بس و بے دم

کہاں یہ سنسنی اقوام کا سہمے ہُوئے رہنا

خدا کے اِک اِشارے کے ہی تابع سب خُدائی ھے

یہ سُنتے ہیں کُرونا نے بڑی ھلچل مچائی ھے

جہاں کے سارے اِنسانوں کو یہ پیغام جاتا ھے

خُدا جب رُوٹھ جاتا ھے تو ایسے آزماتا ھے

ہمیں اپنے گُناہوں پر نِدامت ھے مِرے مولا

تُو جِس کے واسطے عرشِ معلّی کو سجاتا ھے

مُعاف اُس کے لیئے، جِس کے لیئے دُنیا بنائی ھے

یہ سُنتے ہیں کُرونا نے بڑی ھلچل مچائی ھے

خُدا سے عاجزانہ عرض کعبے کی بحالی کا

گُناہوں سے بہت آلودہ دامن ھے سوالی کا

تُجھے ھے واسطہ عظمت کا تیری، کِبریائی کا

گھنی زُلفوں کا احمدﷺکی، حسِیں ہونٹوں کی لالی کا

جہاں بھر کے مرِیضوں نے شِفا اِس در سے پائی ہے

یہ سُنتے ہیں کُرونا نے بڑی ھلچل مچائی ھے

پروفیسر رشید حسرت

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(722) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Professor Rasheed Hasrat, Corona in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 97 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.8 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Professor Rasheed Hasrat.