کشادہ رستوں کھلے جہانوں سے آرہا ہوں

کشادہ رستوں کھلے جہانوں سے آرہا ہوں

میں خاک کی سمت آسمانوں سے آرہا ہوں

ابھی تو آغاز جنگ ہے اور تمھیں خبر کیا

میں فتح کی سمت کن بہانوں سے آرہا ہوں

میں جانتا ہوں یہاں مرا کون ہے نشانہ

مجھے خبر ہے میں کن کمانوں سے آرہا ہوں

جو آگ اور آفتاب کو جانتے نہیں ہیں

میں ایسے تاریک تر مکانوں سے آرہا ہوں

بدلتا جاتا ہوں راستہ اور لباس شہزاد

میں اک زمانہ کئی زمانوں سے آرہا ہوں

قمر رضا شہزاد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(2765) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments