Bargad Se Wapsi

برگد سے واپسی

وہ بچی گم شدہ حیرت سے آثار قدیمہ والا صفحہ کھول کر

اسکول کی بک پڑھ رہی ہے

اسے معلوم ہی کب ہے

جسے نروان ملتا ہے

وہ صدیاں اوڑھ کر صفحوں میں بدھا بن کے رہتا ہے

وہ پڑھتے پڑھتے جب تصویر پر نظریں جماتی ہے

تو اس کو، آنکھ کے حلقوں میں مردہ خواہشوں کی زردیاں محسوس ہوتی ہیں

گھنے برگد کے سائے میں پڑے رہنے سے

اس کی گال پہ سورج کا بوسہ ہی نہیں ہے

اس کے سر کے بال کی سب تازگی جنگل کے سبزے میں پڑی ہے

اسے بدھا پہ رحم آیا

وہ بچی ہاتھ میں پنسل پکڑ کر سوچتی ہے

اور پھر تصویر کے اوپر

لکیریں کھینچ کر مونچھیں بناتی ہے

اور اس تبدیلی سے اندر ہی اندر مسکراتی ہے

کہ جیسے اس نے دانش کی سبھی کمزوریاں

اپنی لکیروں سے چھپا دی ہیں

اسے معلوم ہی کب ہے

کہ اس کے ہاتھ کی جنبش نے اندر کی

سبھی آلائشیں چہرے پہ رکھ دی ہیں

وہ جن کو جسم سے آزاد کر کے ایک عرصے سے تیاگی تھا

اب آثار قدیمہ والے صفحے پر 'دنایا' اور 'ستا' کے کوئی مفہوم ہی باقی نہیں ہیں

ذرا مونچھیں بنانے سے سبھی دکھ مٹ گئے ہیں

'مارگ 'کی کوئی ضرورت ہی نہیں

بدھا کپل وستو کا شہزادہ دوبارہ بن گیا ہے

قاسم یعقوب

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(594) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Qasim Yaqub, Bargad Se Wapsi in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 27 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.3 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Qasim Yaqub.