Kam Ya Ziada Aab O Dana Sab Chalta Hai

کم یا زیادہ ، آب و دانہ ، سب چلتا ہے

کم یا زیادہ ، آب و دانہ ، سب چلتا ہے

باغ ہو کوئی ، یا ویرانہ ، سب چلتا ہے

جاناں ! جیون کھیل بچھڑنے اور ملنے کا

جاناں ! میں نے تجھ سے کہا نا ، سب چلتا ہے

ایک پہاڑی رستے کا در پیش سفر ہو

گیت ، کہانی ، یا افسانہ ، سب چلتا ہے

اپنے اپنے دائرے میں ہم بیٹھے ہوئے ہیں

عرض مری ، تیرا فرمانا ، سب چلتا ہے

ایک گلی میں ایک سے لوگ نہیں رہتے ہیں

ٹوٹا در ، اونچا کاشانہ ، سب چلتا ہے

یہ کیا بات اصولوں کی تم لے بیٹھے ہو

دیکھو پیارے ، اندر خانہ ، سب چلتا ہے

عشق کا جب ریشم ہی سارا الجھا ہو تو

کیا کھڈی ، کیا تانا بانا ، سب چلتا ہے

قیوم طاہر

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(370) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Qayyum Tahir, Kam Ya Ziada Aab O Dana Sab Chalta Hai in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 76 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.6 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Qayyum Tahir.