Jism Deewar Hai Deewar Mein Dar Karna Hai

جسم دیوار ہے دیوار میں در کرنا ہے

جسم دیوار ہے دیوار میں در کرنا ہے

روح اک غار ہے اس غار میں گھر کرنا ہے

ایک ہی قطرہ تو ہے اشک ندامت کا بہت

کون سے دشت و بیابان کو تر کرنا ہے

جلتے رہنا بھی ہے دیوار پہ فانوس کے بن

بے زرہ معرکۂ باد بھی سر کرنا ہے

خاک ہو جانے پہ اے خاک بسر کیوں ہو بضد

کیا تمہیں دوش ہوا پر بھی سفر کرنا ہے

اب ان آنکھوں میں وہ دریا کہاں وہ چشمے کہاں

چند قطرے ہیں جنہیں لعل و گہر کرنا ہے

فتح گلزار مبارک ہو مگر یاد رہے

ابھی نا دیدہ بیابان بھی سر کرنا ہے

کچھ تو ہے رنگ سا احساس کے پردے میں نہاں

جس کو منظر کی طرح وقف نظر کرنا ہے

گل نوخیز کو تیشہ بھی بنا دے یارب

سنگ لب بستہ کے سینے میں اثر کرنا ہے

ایک نیزے پہ لگانے ہیں کئی میوۂ سر

ایک ٹہنی کو ثمر دار شجر کرنا ہے

رفیع رضا

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(363) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Rafi Raza, Jism Deewar Hai Deewar Mein Dar Karna Hai in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 30 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.3 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Rafi Raza.