Bayad Shohda E Peshawar, Urdu Ghazal By Rehman Faris

Bayad Shohda E Peshawar is a famous Urdu Ghazal written by a famous poet, Rehman Faris. Bayad Shohda E Peshawar comes under the Love, Sad, Social, Heart Broken category of Urdu Ghazal. You can read Bayad Shohda E Peshawar on this page of UrduPoint.

بیادِ شُہدائے پشاور

رحمان فارس

تسلیم ھے کہ موت سے مُمکن نہیں فَرار

مانا کہ زندگی نہیں بالکل وفا شعار

ھر منبعِ حیات پہ ھوگا اجل کا وار

خوشبو ھے دیرپا نہ کوئی پھول پائیدار

لیکن ابھی یہ رنگ تو کچّے تھے ، ھائے ھائے

کم سِن تھے ، بے گناہ تھے، بچّے تھے ، ھائے ھائے

تھے چودھویں کے چاند وہ معصُوم نونہال

عُمریں قلیل ، ننّھے بدن ، بھولے خدّو خال

بے فکریوں کا دَور تھا ، بچپن کے ماہ و سال

وا حسرتا کہ ھوگئے اپنے لہو میں لال

گُل پَیرھن تھے اور کفن پوش ھوگئے

گودی سے اُترے ، قبر میں رُوپوش ھوگئے

ھر گُل عذار کتنے دِلوں کا سرُور تھا

نخلِ اُمید کا بڑا خُوش رنگ بُور تھا

ھر چاند والدین کی آنکھوں کا نُور تھا

بھائی کا زورِ بازُو ، بہَن کا غرُور تھا

سَو منَّتوں ، ھزار مُرادوں کے پھل تھے وہ

نعم البدل مِلے گا کہاں ؟ بے بدَل تھے وہ

کِس مان سے سنوارا تھا ماؤں نے صُبح دم

کِس بھولپن سے جانبِ مقتل اُٹھے قدم

تھامے قلم کتاب تو سَر ھوگئے قلم

جِس دم اُٹھا کے لائے گئے ، جان تھی نہ دم

کیا خُوب درس گاہ تھی ، کیا امتحاں لِیا

غم کا سبَق پڑھائے بِنا امتحاں لیا

اب داستانِ رنج و الَم کیا کرُوں بیاں ؟

وقتِ وِداع ، نزع کا عالم ، وہ ھچکیاں

ننھے لبوں پہ تازہ لہو کی وہ پپڑیاں

وہ شکوہ سنج آنکھیں ، وہ خاموش سسکیاں

ماں باپ کو پُکارا تو ھوگا کہ آئیے

اپنے جگر کے ٹکڑوں کے ٹکڑے اُٹھائیے

دوڑے تو ھوں گے ھائے وہ بچّے اِدھر اُدھر

دیکھا تو ھوگا سُوئے فلک بھی بہ چشمِ تر

چیخوں سے اُن کی کانپ اُٹھے ھوں گے بام و در

لیکن کہیں سے آئی نہ اِمداد وقت پر

بھائی بہَن کا نام لِیا اور مر گئے

ماں باپ کو سلام کِیا اور مر گئے

ناحق بہے جو خُون تو کانپ اُٹھتا ھے فلک

بے چارگاں کی آہ تو جاتی ھے عرش تک

ظالم کی موت ھے دلِ مظلوم کی کسک

اِن قاتلوں کے باب میں رکھیو نہ کوئی شک

جِس میں اِنہیں جلانا خُدا کا اصول ھے

اُس آگ آگے نارِ جہنّم بھی پھُول ھے

اِن ظالموں کا ظُلم تو خود ظُلم کو رُلائے

لعنت خود اِن کے لعنتی چہروں سے مُنہ چھپائے

نفرت بھی اِن کو دیکھے تو نفرت سے تھُوک جائے

گالی اِنہیں مِلے بھی تو گالی کو شرم آئے

شیطاں بھی اِن کے باطنِ بد کو سزائیں دیں

خود بد دعائیں اِن کو سدا بد دعائیں دیں

بے چارگاں کے آخری دیدار کی قسَم

صبرِ حُسینؐ و حیدرِ کرّار کی قسَم

دُشمن کو ڈھونڈتی ھوئی تلوار کی قسَم

فارس ! ھمارے لشکرِ جرّار کی قسَم

سوئیں گے چَین سے نہ کبھی سوگوار اب

ماریں گے ایک ایک کے بدلے ھزار اب

بدلے کی آگ اپنی جگہ ھے مگر یہ غم

ھم سَو برَس بھی جی لیں تو ھو پائے گا نہ کم

ھر روز یاد آئے گا یہ ظلم یہ سِتم

تا عُمر جانے والوں کو رویا کریں گے ھم

آنکھوں سے وہ جدُا سہی ، دِل سے پرے نہیں

ھاں ، ھم ھیں کم نظر ، شُہَدا تو مرے نہیں

اَے کربلائے نَو ! ترے قربان ، صبر کر

تجھ پر فدا ھیں میرے دل و جان ، صبر کر

رو رو کے ھو نہ جائے تُو ھلکان ، صبر کر

میرے پشاورا ! مرے بے جان ! صبر کر

ماتم ھے ، غم ھے ، سوگ ھے ، آنسو ھیں ، بَین ھے

شہرِ پشاور آج سے شہرِ حُسَین ھے

رحمان فارس

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(3499) ووٹ وصول ہوئے

You can read Bayad Shohda E Peshawar written by Rehman Faris at UrduPoint. Bayad Shohda E Peshawar is one of the masterpieces written by Rehman Faris. You can also find the complete poetry collection of Rehman Faris by clicking on the button 'Read Complete Poetry Collection of Rehman Faris' above.

Bayad Shohda E Peshawar is a widely read Urdu Ghazal. If you like Bayad Shohda E Peshawar, you will also like to read other famous Urdu Ghazal.

You can also read Love Poetry, If you want to read more poems. We hope you will like the vast collection of poetry at UrduPoint; remember to share it with others.