رخسانہ نور کی معاشرتی شاعری۔ معاشرتی نظمیں و غزلیں

میں نے انسان ہی سوچا تھا وہ شیطان نکلا

رخسانہ نور

اب مجھ میں جاناں

رخسانہ نور

سلگتی سوچ کی بستی میں اب بسیرا ہے

رخسانہ نور

موم پگھلا اور پتھرہو گیا

رخسانہ نور

میں اک لاکھ دنوں کی بوڑھی

رخسانہ نور

اسی لئے تو

رخسانہ نور

مجھ سے تمہیں الفت تو نہیں نہ سہی

رخسانہ نور

تیرے تن کی خوشبو سے مانوس ہوں میں

رخسانہ نور

خواب کو پانی بنا کر لے گیا ہے کیا کروں

رخسانہ نور

خواب بن کے بکھر گیا چہرہ

رخسانہ نور

خود کو بھی تو آزماناچاہے

رخسانہ نور

پیاسا صحرا فقط

رخسانہ نور

پتھروں کی بدلیوں سے پانیوں کی بوندلوں

رخسانہ نور

مجھے اس دیس لے جائو مجھے اس دیس لے جائو

رخسانہ نور

اپنے اندر کے درندے کو زہر دے ڈالو

رخسانہ نور

جذبوں کی گاگریں

رخسانہ نور

ہمیں ہنستے ہنستے یوں رونا پڑا ہے

رخسانہ نور

حادثہ یہ بھی ہوا ہے اب کے

رخسانہ نور

درد نے آنکھ سے گوہر جو نکالے ہوتے

رخسانہ نور

میرے بچے تو میرے تن کے کس حصے میں سو رہا ہے

رخسانہ نور

چبھن نہیں ہے مگر اضطراب کافی ہے

رخسانہ نور