Agar Alfaz Se Gham Ka Azala Ho Giya Hota

اگر الفاظ سے غم کا ازالہ ہو گیا ہوتا

اگر الفاظ سے غم کا ازالہ ہو گیا ہوتا

حقیقت تو نہ ہوتی بس دکھاوا ہو گیا ہوتا

اگر اپنا سمجھ کر صرف اک آواز دے جاتے

یقیں مانو کہ میرا دل تمہارا ہو گیا ہوتا

شب فرقت میں جتنے خواب بھی ملنے کے دیکھے تھے

اگر تعبیر ملتی تو اجالا ہو گیا ہوتا

نہ کرتے منقطع گر تم مراسم کی حسیں راہیں

تو قاصد خط مرا دینے روانہ ہو گیا ہوتا

محبت کی اگر پاکیزگی پر تم یقیں کرتے

تو مل کر تم سے پورا سب خسارا ہو گیا ہوتا

مری آشفتگی پر اب زمانے کو تعجب کیوں

اگر الفت نہ ہوتی دل سیانا ہو گیا ہوتا

دل فرقت زدہ میں ہے جو اک ناسور مدت سے

معالج گر سمجھ پاتا افاقہ ہو گیا ہوتا

جو دکھ کی فصل بوئی ہے تو اب دکھ کاٹنا ہوگا

مکافات عمل سمجھے اشارہ ہو گیا ہوتا

یہ حکمت ہے سبیلہؔ زیست میں رب نے کمی رکھی

وگرنہ ہر بشر خود میں خدا سا ہو گیا ہوتا

سبیلہ انعام صدیقی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(385) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Sabeela Inam Siddiqui, Agar Alfaz Se Gham Ka Azala Ho Giya Hota in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 23 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.8 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Sabeela Inam Siddiqui.