Bekhayali Main Takhleeq

بے خیالی میں تخلیق

خیالات و احساس

جو بے ساختہ لکھ دیے ہیں

نہ جانے وہ کب سے دل و جاں کے اندر چھپے تھے

کسی راز جیسے

قلم بند ہونے کو بے چین تھے

کئی درد الجھے سوالات

جو صفحے پہ سجنے کو بیتاب تھے

وہ سب

قلم سے مرے موتیوں کی طرح

اب برسنے لگے ہیں

سبھی رقص کرنے لگے ہیں

مری چشم پر نم

جو سیلاب روکے ہوئے ہے

ستارے چمکتے ہیں میری پلک پر

انہیں میں رقم کر رہی ہوں

جو طوفان ہے موجزن میرے اندر

وہ ارمان وہ خواب

کئی لا شعوری مضامین بن کر

ورق در ورق جگمگانے لگے ہیں

سبھی رقص کرنے لگے ہیں

اور اب

اسی جذب و احساس کے زیر سایہ

غزل پھول بن کر مہکتی ہے

کبھی نظم گاتی ہے وہ گیت

کہ جو بے خیالی میں تخلیق ہو کر

بناتی ہے رنگین پیکر

یہ بزم سخن کو سجانے پہ مائل

خیالات سب رقص کرنے لگے ہیں

قلم سے مرے موتیوں کی طرح

اب برسنے لگے ہیں

سبھی رقص کرنے لگے ہیں

سبیلہ انعام صدیقی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(559) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Sabeela Inam Siddiqui, Bekhayali Main Takhleeq in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 23 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 5 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Sabeela Inam Siddiqui.