Main Darya Hoon Magar Donoon Taraf Sahil Hai Tanhai

میں دریا ہوں مگر دونوں طرف ساحل ہے تنہائی

میں دریا ہوں مگر دونوں طرف ساحل ہے تنہائی

تلاطم خیز موجوں میں مری شامل ہے تنہائی

محبت ہو تو تنہائی میں بھی اک کیف ہوتا ہے

تمناؤں کی نغمہ آفریں محفل ہے تنہائی

بہت دن وقت کی ہنگامہ آرائی میں گزرے ہیں

انہیں گزرے ہوئے ایام کا حاصل ہے تنہائی

ہجوم زیست سے دوری نے یہ ماحول بخشا ہے

اکیلی میں مرا کمرا ہے اور قاتل ہے تنہائی

مرے ہر کام کی مجھ کو وہی تحریک دیتی ہے

اگرچہ دیکھنے میں کس قدر مشکل ہے تنہائی

اسی نے تو تخیل کو مرے پرواز بخشی ہے

خدا کا شکر ہے جو اب کسی قابل ہے تنہائی

محبت کی شعاعوں سے توانائی جو ملتی ہے

اسی رنگینیٔ مفہوم میں داخل ہے تنہائی

خدا حسرت زدہ دل کی تمناؤں سے واقف ہے

دعائیں روز و شب کرتی ہوئی سائل ہے تنہائی

کسی کی یاد ہے دل میں ابھی تک انجمن آرا

سبیلہؔ کون سمجھے گا کہ میرا دل ہے تنہائی

سبیلہ انعام صدیقی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(581) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Sabeela Inam Siddiqui, Main Darya Hoon Magar Donoon Taraf Sahil Hai Tanhai in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 23 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.4 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Sabeela Inam Siddiqui.