وہ ہستیٴ لافانی

کرے جو نیست کو ہست ، ہست کو نیست

مرا محبوب ہے وہ ، اک ہستیٴ لافانی

وہ جسکی خلقت میں توازن و ترتیبِ کمال

وہ نورٌ علیٰ نور ، وہ ذاتِ جاودانی

جسطرح طلبگار ہیں ہم نظرِ کرم کے اسکی

بعینہ ہے محوِ حمد ہر ذرئہ جائے فانی

کیا جو یاں عشقِ مجازی تو کیا کیا صاحب؟

منزلِ عشقِ حقیقی تو ہے جلوئہ رحمانی

ہوا مقبول تو ہوئی نظر کرم یاں بھی، وہاں بھی

ہوا مردود تو ٹھہرا فقط اک لاشائے بے جانی

یہ دنیا ہے پیارے ہر روز نئی دنیا

اس عارضی محفل میں ناپید ہے آسانی

اس بحرِ طلاطم خیز سے نکلے گی کہاں ناوٴ؟

یہ بحر بھی ہے فانی ، یہ ناوٴ بھی ہے فانی

در عالمِ درد و الم ، دورِ ہجر و زلازل

یہ ہتھیارِ دعا ہے کہ اک خنجرِ طوفانی؟

سیوفِ ظلم و ستم ، جور و جفا کے مقابل

دعا اس شخص کی ہے اک نیزئہ لاثانی

اس حالِ پریشاں میں ، اس فرقتِ جاناں میں

محسوس ہوئی مجھ کو اک نصرتِ انجانی

حاصل رہی جو ہر کام میں برگزیدوں کو

خوشا نصیب! ملے جو ہم کو بھی وہ عونِ آسمانی

ایسے جی کر بھی بھلا کیونکر ملے ہم کو راحت؟

جس میں نہ ملے ہم کو وہ الفتِ یارانی

فصلِ یقین و ایماں تمہیں بھی ہو حاصل

گر قلب تمہارا ہو اک کرّئہ بارانی

کامیابی کے واسطے بس ایک ہی رستہ ہے لطیف

ہو نفئی نفاق دل سے اور ہو فضلِ یزدانی

صادق احمد لطیف

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(2279) ووٹ وصول ہوئے

صادق احمد لطیف کی مزید شاعری

Your Thoughts and Comments