Udhoori Nasal Ka Poora Sach

ادھوری نسل کا پورا سچ

عمر کا سورج سوا نیزے پہ آیا

گرم شریانوں میں بہتے خون کا دریا بھنور ہونے لگا

حلقۂ موج ہوا کافی نہیں

وحشت ابر بدن کے واسطے

آغوش کوئی اور ہو

ورنہ یوں مردہ سڑک کے خواب آور سے کنارے

بے خیالی میں کسی تھوکے ہوئے بچے کی الجھی سانس میں لپٹی ہوئی یہ زندگی!

ذہن پر بار گراں بند قبا کے لمس کا احساس بھی

اور شہر حبس میں رستہ کوئی کھلتا نہیں

شاخ تنہا سے بیے کا گھونسلہ گرتا نہیں

وحشت ابر بدن کی خشک سالی

ایک چلو لمس کے پانی کی محتاجی کو روتی ہے

مگر!

دیکھنا، آوارہ کرنیں دیکھنا

جن کو رستوں میں بکھرتی

تتلیوں سی لڑکیوں کے زیر جاموں

اور شیریں جسم کے ہلکے مساموں تک سفر کا اذن ہے

عمر کا سورج سوا نیزے پہ آیا

اب کتابوں، تختیوں کی بے مزا چھاؤں تلے گھٹتا ہے دم

اب بدن چھپتا نہیں اخبار کے ملبوس میں

اب فقط عریانیاں

لیکن

یقیناً

مار ڈالے گی کہیں

ان بھرے شہروں کی تنہائی ہمیں

سعید احمد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(489) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Saeed Ahmad, Udhoori Nasal Ka Poora Sach in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 22 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.3 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Saeed Ahmad.