Zaat Ki Kaal Kothri Se Akhri Nashriya

ذات کی کال کوٹھڑی سے آخری نشریہ

اب کوئی صحرا نہ اونٹوں کی قطاریں

گھنٹیاں سی جگمگاتی خواہشوں کی

دھیان کے کہرے میں لپٹی

گنگناتی ہیں مگر مضراب آئندہ سفر کے

راستوں کے ساز سے ناراض ہیں

میں اسی اندھی گلی کی قبر میں مرنے لگا

بھاگ نکلی تھی جہاں سے

زیست پیدائش کے دکھ دے کر مجھے

آنکھ سے چپکے نظاروں کے ہزاروں داغ ہیں

جو وقت کی بارش سے بھی دھلتے نہیں

کون سی دیوار میں رخنے ہیں کتنے

کون دروازوں کو کیسی چاٹ دیمک کی لگی ہیں

کون سی چھت تک کسی نے

سیڑھیوں میں ٹھوکریں کتنی رکھی ہیں

ہر کہانی یاد ہے

سن مرے ہم زاد سن!

زندگی کے کھوج میں اب

ہجرتیں واجب ہیں لیکن

سرحدوں سے ماورا ہیں

یا ہوائیں یا صدائیں یا پرندے

میں تمنا کے جہازوں کا مسافر

یا پاسپورٹوں اور ویزوں کے ایر پیکٹ ڈراتے ہیں مجھے

سعید احمد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(732) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Saeed Ahmad, Zaat Ki Kaal Kothri Se Akhri Nashriya in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 22 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.7 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Saeed Ahmad.