Andhere Raat Bhar Sargoshiyaan Karte Thay Apas Main

اندھیرے رات بھر سرگوشیاں کرتے تھے آپس میں

اندھیرے رات بھر سرگوشیاں کرتے تھے آپس میں

مری بانہوں میں جب مہتاب اترا تھا اماوس میں

بہت بے بس لگی ہے مونا لیزا بھی ترے آگے

ترے حُسنِ سوا کو ہم پرکھ آئے ہیں پیرس میں

ہمالہ جب نئی رُت کے سفیروں کو بلاتا ہے

مسافت زندگی بن کر دھڑک اٹھتی ہے سارس میں

ہم اک دوجے سےآخر پارک میں کب تک خفا رہتے

پرندے ٹہنیوں پر کر رہے تھے عشق آپس میں

محبت کیمیا ہونے سے آگے کا کرشمہ ہے

جو لمسِ عشق میں ہے وہ کہاں تاثیر پارس میں

گلی میں گرم لاشے گر رہے تھے تین نسلوں سے

سو کیسے فرق رکھ سکتے تھے ہم شاہین و کرگس میں

حسیں چہرے ہیں اور چاروں طرف پایاب آنکھیں ہیں

محبت میرے بس میں ہے، نہ بیزاری مرے بس میں

ذرا جو دن بدلنے کی کوئی صورت نکلتی ہے

تماشہ گر بدل دیتے ہیں پھر حالات سرکس میں

اُسے اک آشیاں کو زندگی کرنے کی خواہش تھی

ہماری جان اٹکی تھی کسی ہجرت کے سارس میں

کسی کی فتحِ آخر بھی کہانی کی ضرورت تھی

کہانی اور تھی ورنہ سکندر اور پورس میں

سعید خان

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(2228) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Saeed Khan, Andhere Raat Bhar Sargoshiyaan Karte Thay Apas Main in Urdu. This famous Urdu Shayari is a , and the type of this Nazam is Urdu Poetry. Also there are 34 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.2 out of 5 stars. Read the poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Saeed Khan.