Neelcha Daryae Huro Ki Yaad Main

نیلچہ۔ دریائے ہرؔو کی یاد میں

میرے بچھڑے ہوئے نیلچہ

آ بھمالے کے اس موڑ پر بیٹھ کر

اپنی بچھڑی ہوئی زندگی کا احاطہ کریں

اپنی کھوئی ہوئی جنتِ جاں فزا کے تصور کو تازہ کریں

آ کہ بہتے ہوئے

صاف دریاؤں کے غوطہ زن بادشہ

کل تلک

مست فطرت ہرو کی چمکتی ہوئی تیز چاندی

ترا رزق تھی

لیکن اب کھیت میں سرسراتے ہوئے

سُست کیڑے ہدف ہیں ترا

میں کہ ارضِ ہرو اور ہزارے کا بیباک نغمہ سرا

اپنی مٹی کی خوشبو سے دنیا پرے

آج پردیس میں

بے جنوں روشنی کی لکیروں میں الجھا ہوا

محوِ آزار ہوں

میرے بچھڑے ہوئے نیلچہ

یہ بھمالے کا اجڑا ہوا موڑ

یہ رفتگانِ اشوکاؔ کو آواز دیتی ہوئی خانقہ

کتنی کھوئی ہوئی عظمتوں کا یہ عبرت کدہ

کہہ رہا ہے۔ ۔ ۔ ۔

ہروؔ ۔۔۔ روشنی کی مسافت کا ہمراز تھا

دور تک۔ ۔ ۔ اس مقدس زمیں پر

بہاروں کا دمساز تھا،

میرے بچھڑے ہوئے نیلچہ

سامنے یہ جو سہمی ہوئی جھیل ہے

اس کے ٹھہرے ہوئے پانیوں پہ لکھی داستاں۔ ۔ ۔

شہر زادوں نے اک جنتِ بے بہا لُوٹ کر

کوہساروں کی پرلی طرف

کوچۂ زرد کی وسعتوں کا سبب تو کیا۔ ۔ ۔

لیکن اپنی زمیں کے سلگتے ہوئے سادہ دل

شہرِ حاکم پہ اپنا مقدس ہرؔو وار کر بھی

ابھی تک اجالوں سے محروم ہیں۔

میرے بچھڑے ہوئے نیلچہ

آ بھمالے کے اس موڑ پر بیٹھ کر

اپنی بچھڑی ہوئی زندگی کا احاطہ کریں

اپنی کھوئی ہوئی جنتِ جاں فزا کے تصور کو تازہ کریں

سعید خان

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(529) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Saeed Khan, Neelcha Daryae Huro Ki Yaad Main in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Social, Hope Urdu Poetry. Also there are 34 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.6 out of 5 stars. Read the Social, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Saeed Khan.