Banjh Mard

خواتین کے عالمی دن کے موقع پر "بانجھ مرد"

سن لفظوں کی مالا جپتی

میری سکھی!

تم سچ کہتی تھی۔

جب لفظوں کے چہروں پہ

آنکھیں اگ آتی ہیں۔

آنکھوں میں

آوازیں تیرنے لگتی ھیں

آوازوں میں گیتوں کے بول

تان کے دیپک بنتے ہیں

مدھر سروں کے ساز بجنے لگتے ھیں

فلک کے تارے

آنکھوں میں چم چم کرنے لگتے ہیں۔

آگہی کی راہ پہ چلتی

جب خود کو پانے لگتی ھوں

ایسے میں احکام پروانے ملتے ہیں۔

پیروں میں زنجیر باندھ کے

ناچ نچایا جاتا ھے

دیسی بدیسی کھانوں سے

چائے کافی بنانے تیکر

بستر کی شکنوں میں

ادھ موئے خوابوں کے خراٹوں کی

آوارہ گرد سڑکوں پہ

مارے مارے پھرنے کے بعد

قلم اٹھانے کی اجازت ملتی ھے۔

دیمک زدہ بستی کی رسم

دیکھو کیسی ھے۔

کلیوں کو مسلتے وحشی

زندانوں میں

قلم کتاب کو نذر آتش کر کے

مردانگی پہ اٹھلاتے ہیں۔

تم سچ کہتی تھی

رگوں کے جال ھوں

یا شہہ رگ

خنجر جملے کاٹتے ہیں۔

بہتے خوں پہ ہاتھ رکھ کے

روشنی لکھنا بھت دشوار سہی

مگر اک نظم لکھتے لکھتے

موت کے منہ میں ہاتھ رکھتے

بانجھ سماج کے ساہوکار کو

بانجھ مرد لکھتے

میں ذرا بھی تو نہیں ڈرتی۔

ھاھاھاھا۔۔۔۔۔

کتاب چھیننے والے بانجھ ھی تو ھوتے ھیں

صفیہ حیات

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(635) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Safia Hayat, Banjh Mard in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Hope Urdu Poetry. Also there are 80 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.5 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Safia Hayat.