قدرت نے کتنا بخشا ہے صبح کو یہ حُسن

قدرت نے کتنا بخشا ہے صبح کو یہ حُسن

تر و تازہ ہو جاتا ہے ہر شے کا بدن

انساں پہ چڑھا رہتا ہے غفلت کا پیرہن

طیور انساں سے پہلے اٹھ کے ہو جاتے ہیں نغمہ زن

دُرّ شبنم سے بھرا ہو تا ہے کلیوں کا بطن

کیا خوب ہو کہ سبھی انساں عبادت میں ہو جائیں مگن

سمت خاور سے آفتاب بھی جلوہ گر ہوتا ہے

جس سے نظارہٴ صناعی ٴ عا لم کاری گر ہوتا ہے

انسان کی زباں پہ نہ ذکر الٰہی نہ دُروُد ہوتی ہے

فقط اس سے انساں کی آزمائش مقصود ہوتی ہے

وقت وصل کے بعد کی تڑپ بھی سوُ د ہوتی ہے

تبدیلیٴ صبح و مسا سے جلوئہ قدرت کی نمود ہوتی ہے

وہ لطف وقت پاتاہے جس دل میں یہ قدر موجود ہوتی ہے

وہ ہوتا ہے سُرخروہے پیشانی جس کی سربسجود ہوتی ہے

سوز دید تو ہے مگر ترے دل میں کر ب نہیں

خامشی ہے اس کا دارُو قوت ضرب نہیں

وادیوں کے دامن میں ندیاں گیت گاتی ہیں

و ہ جنگل کی زلفیں کرن آفتاب سے جگمگاتی ہیں

درختوں کی ٹہنیاں لطف صبح سے سروں کو ہلاتی ہیں

شبنم کی ننھی بو ندیں کلیوں کو رلاتی ہیں

نالوں کی موجیں ساز قدرت کی لے میں گنگناتی ہیں

آہ اس نظارے کو دیکھ کر پریاں بھی شرماتی ہیں

گردش وقت کا وہ شعلہ اپنا سفر کاٹتا ہے

آخر شفق کے پیا زی لبوں کو جا کر چاٹتا ہے

پھر آغاز ہنگامہٴ عروس شام ہوتا ہے

ختم نور آفتاب کا پھر کام ہوتا ہے

جیسے صراحی میں کوئی رنگیں جام ہوتا ہے

رفعت آسماں سے پھر نجم و قمر کا پیش سلا م ہوتا ہے

کلیوں کے دل میں بھی شبنم کا احترام ہوتا ہے

دیدہٴ گل کیلئے کتنا حسین نظا رہٴ شام ہوتا ہے

اس وقت حریر میں خا موش ہونا پڑتا ہے بحر کو

ہر شے جھک جھک کے سلام کرتی ہے سحر کو !

سردار زبیر احمد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(1363) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments