Khuda Kare Khizaan Guzre Or Bahan Ho Jaye

خدا کرے خزاں گزرے اور بہار ہو جائے

خدا کرے خزاں گزرے اور بہار ہو جائے

کلیاں محو رقص ہوں اور ہلکی ہلکی پھوار ہو جائے

اب بہاریں ہر شے کو لباس نو پہنائیں گی

کہیں ایسی رُت میں مرا دل بھی نہ بیقرار ہو جائے

کلیاں مسکرائیں اور گلاب کھلیں چمن میں

وہ بہار میں آ کر کہیں خزاں کیساتھ نہ فرار ہو جائے

ابھی تو بہت بیتا ب ہیں ہم آمد بہار کیلئے

خدشہ بھی ہے کہ بہار میں کہیں تازہ نہ دل فگار ہو جائے

دستور موسم میں خزاں آتا ہے تو بہار بھی آتی ہے

وہ بھی شاید بچھڑنے کے بعد پھر کہیں نمودار ہو جائے

وہ نہ میری زباں سے آشنا ،نہ میرے لبوں سے آشنا

اس گل آتشیں کو دیکھ کر کہیں وہ نہ اشکبار ہو جائے

پی لیتے ہیں ہم تری یادوں کی محفل میں کبھی کبھی

یہ ڈرہے کہیں ایسی رُت میں نشہٴ دید نہ سوار ہو جائے

ہم تو تری محفل کو روشن کریں گے لہُو کے چراغ سے

مگر شرط یہ ہے کہ تو مرے اشکوں کا نہ طلبگار ہو جائے

تُو بھی یوں مجھے اپنی محفل میں بدستور نہ گھور ا کر

کیا تُو چاہتا ہے کہ مرا دل تری آنکھوں کا خریدار ہو جائے !

سردار زبیر احمد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(322) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Sardar Zubair Ahmed, Khuda Kare Khizaan Guzre Or Bahan Ho Jaye in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 30 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.4 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Sardar Zubair Ahmed.