Aik Pal Banaya Ja Raha Hai

ایک پل بنایا جا رہا ہے

میں ان سے پوچھتا ہوں:

پل کیسے بنایا جاتا ہے

پل بنانے والے کہتے ہیں:

تم نے کبھی محبت نہیں کی

میں کہتا ہوں: محبت کیا چیز ہے

وہ اپنے اوزار رکھتے ہوئے کہتے ہیں:

محبت کا مطلب جاننا چاہتے ہو

تو پہلے دریا سے ملو۔۔۔

روئے زمین پر دریا سے زیادہ محبت کرنے والا کوئی نہیں

دریا اپنے سمندر کی طرف بہتا رہتا ہے

یہ سپردگی ہے

یہ سپردگی بچپن ہے اور بچپن بہشت۔۔۔

لیکن بہشت تک پہنچنے کے لئے ایک جہنم سے گزرنا پڑتا ہے

میں پوچھتا ہوں جہنم کیا ہے؟

وہ کہتے ہیں: اس سوال کا جواب درختوں کے پاس ہے

کوئی بھی موسم ہو وہ اپنی جگہ نہیں چھوڑتے

انہیں مٹی سے محبت ہے

انہیں پرندوں اور چیونٹیوں سے محبت ہے

جو ان کے جسم میں گھر بناتی ہیں

'گھر کیا ہے؟' میں پوچھتا ہوں؟

وہ سب ہنسنے لگتے ہیں

پہلا مزدور کہتا ہے:

اپنی عورت کی طرف جاؤ

ہر سوال کا جواب مل جائے گا

ثروت حسین

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(1296) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Sarwat Hussain, Aik Pal Banaya Ja Raha Hai in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 56 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.2 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Sarwat Hussain.