16 December 1971 Ki Yaad Main

سولہ دسمبر انیس سو اکہتر کی یاد میں

ہماری تاریخ کے عقوبت کدہ کا سب سے سیاہ لمحہ

کہ جب ہماری جُھکی نگاہیں

زمیں کے پاتال میں گَڑی تھیں

ندامتوں کے عرَق سے تر ہوگئی تھیں پیشانیاں ہماری

ہمارے ہاتھوں کو پُشت پر باندھا جارہا تھا

ہم اپنے دشمن کے روبرو بے زبان و بے بس کھڑے ہوئے تھے

اور اُن کے قدموں میں،ایک اک کرکے

اپنے ہتھیار رکھ رہے تھے

نہ جانے ،آنکھوں نے کیسے جھیلے وہ سب نظارے

جب ایک جنت نما جزیرے کی پھول وادی میں

صرف کانٹے اُگے ہوئے تھے

بہت سے مانوس اور غمگسار چہرے

دھوئیں کے بادل سے لگ رہے تھے

نہ اپنے مانجھی کے گیت دُہرارہی تھی گنگا

نہ بانس کے جنگلوں سے نغموں کی

نرم آوازآرہی تھی

نہ کھیت میں دھان کی پنیری لہک رہی تھی

نہ گھاٹ سے کشتیاں روانہ ہوئیں سفر پر

حسین اور سبز مرغزاروں میں،

چائے کے باغ کی خوشبوئوں سے بوجھل ہوا میں

اور ریشمی دھان کی کھڑی فصل میں

اچانک بہت سے شعلے بھڑک اٹھے تھے

یہ آگ بس پھیلتی جارہی تھی ہر سُو

دلوں کے اندر،گھروں کے اندر

تمام چہرے پگھل رہے تھے

تمام احساس جل رہے تھے

زمین سہمی ہوئی تھی اور آسمان چُپ تھا

تمام لمحوں کو جیسے سکتہ سا ہوگیا تھا

ہزاروں لاکھوں دلوں کی گہری اداسیوں میں

بس ایک عفریت جاگتا تھا

وہ ایک ساعت کہ

جس کو ہم نے خود اپنے سینوں میں

موت کے تجربے کی صورت اترتے دیکھا

وہ برہمی کے بھنور میں جکڑے وجود

اک دوسرے کے بہتے لہو سے ہولی منارہے تھے

وطن کے پرچم کو

اپنی پلکوں سے تھام کر چلنے والے ساتھی

وطن کا پرچم جلا رہے تھے

سقوطِ ڈھاکہ،سُراغ ملتا نہیں ہے جس کے کسی سبب کا

کہ ہم نے ہونٹوں کو جانے کیوں

مصلحت کے ریشم سے سی رکھا ہے

نہ جانے کیوں ہم نے اپنے دل کی عدالتوں پر

لگالئے قُفل خامشی کے

فقط اُسی وقت بولتے ہیں

کہ جب ہمیں ایک دوسرے پہ بہتان باندھنے ہوں

نہ جانے کیوں آج بھی ہمارے تمام ہی المیوں پہ

چُپ کے دبیز پردے پڑے ہوئے ہیں

کَٹے ہوئے پھل کی طرح جیسے ہمارے سینے

بہت سی قاشوں میں بٹ گئے ہیں

دہائیاں اب گزر چُکی ہیں

وطن کی مٹی کی خوشبوئوں کو ترسنے والے

ابھی تلک ریڈ کراس کے کیمپس میں

اذیت کے اور انتظار کے دن بِتارہے ہیں

اور آتی جاتی رُتوں کو

اپنی وفا کا نوحہ سنارہے ہیں

شاہدہ حسن

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(415) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Shahida Hassan, 16 December 1971 Ki Yaad Main in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Sad, Social, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 28 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.8 out of 5 stars. Read the Sad, Social, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Shahida Hassan.