کب تک کڑکتی دھوپ میں آنکھیں جلائیں ہم

کب تک کڑکتی دھوپ میں آنکھیں جلائیں ہم

سایہ دکھائی دے تو کہیں بیٹھ جائیں ہم

مٹتی نہیں کسی سے بھی قربت کی دوریاں

گر کھو گیا ہو تو تو تجھے ڈھونڈ لائیں ہم

بے نور ہو چلی ہیں تمنا کی بستیاں

کب تک چراغ یاد گزشتہ جلائیں ہم

تیرا وجود بیتی ہوئی زندگی کی یاد

تو آ چکے تو شہر میں دھومیں مچائیں ہم

سو طرح کی بہار ہے سو رنگ کی خزاں

اس دل کی وسعتوں میں کہیں کھو نہ جائیں ہم

ہر سانحہ پکار کے کہتا ہے چپ رہو

کب تک دلوں کی بات زباں تک نہ لائیں ہم

اس شہر خامشی میں کوئی جاگتا بھی ہو

شہزادؔ کس کو صبح کا مژدہ سنائیں ہم

شہزاد احمد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(1224) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments