Chiragh Khod Hi Bujhaya Bujha Kay Chor Diya

چراغ خود ہی بجھایا بجھا کے چھوڑ دیا

چراغ خود ہی بجھایا بجھا کے چھوڑ دیا

وہ غیر تھا اسے اپنا بنا کے چھوڑ دیا

ہزار چہرے ہیں موجود آدمی غائب

یہ کس خرابے میں دنیا نے لا کے چھوڑ دیا

میں اپنی جاں میں اسے جذب کس طرح کرتا

اسے گلے سے لگایا لگا کے چھوڑ دیا

میں جا چکا ہوں مرے واسطے اداس نہ ہو

میں وہ ہوں تو نے جسے مسکرا کے چھوڑ دیا

کسی نے یہ نہ بتایا کہ فاصلہ کیا ہے

ہر ایک نے مجھے رستہ دکھا کے چھوڑ دیا

ہمارے دل میں ہے کیا جھانک کر نہ دیکھ سکے

خود اپنی ذات سے پردہ اٹھا کے چھوڑ دیا

وہ تیرا روگ بھی ہے اور ترا علاج بھی ہے

اسی کو ڈھونڈ جسے تنگ آ کے چھوڑ دیا

وہ انجمن میں ملا بھی تو اس نے بات نہ کی

کبھی کبھی کوئی جملہ چھپا کے چھوڑ دیا

رکھوں کسی سے توقع تو کیا رکھوں شہزادؔ

خدا نے بھی تو زمیں پر گرا کے چھوڑ دیا

شہزاد احمد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(1171) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Shahzad Ahmed, Chiragh Khod Hi Bujhaya Bujha Kay Chor Diya in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 101 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.6 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Shahzad Ahmed.