Is Bharay Shehr Main Aram Main Kaisay Paon

اس بھرے شہر میں آرام میں کیسے پاؤں

اس بھرے شہر میں آرام میں کیسے پاؤں

جاگتے چیختے رنگوں کو کہاں لے جاؤں

پیرہن چست ہوا سست کھڑی دیواریں

اسے چاہوں اسے روکوں کہ جدا ہو جاؤں

حسن بازار کی زینت ہے مگر ہے تو سہی

گھر سے نکلا ہوں تو اس چوک سے بھی ہو آؤں

لڑکیاں کون سے گوشے میں زیادہ ہوں گی

نہ کروں بات مگر پیڑ تو گنتا جاؤں

کر رہا ہوں جسے بد نام گلی کوچوں میں

آنکھ بھی اس سے ملاتے ہوئے میں گھبراؤں

وہ مجھے پیار سے دیکھے بھی تو پھر کیا ہوگا

مجھ میں اتنی بھی سکت کب ہے کہ دھوکا کھاؤں

حسن خود ایک بھکاری ہے مجھے کیا دے گا

کس توقع پہ میں دامان نظر پھیلاؤں

واقعہ کچھ بھی ہو سچ کہنے میں رسوائی ہے

کیوں نہ خاموش رہوں اہل نظر کہلاؤں

ایک مدت سے کئی سائے مری تاک میں ہیں

کب تلک رات کی دیوار سے سر ٹکراؤں

آدمیت ہے کہ ہے گنبد بے در کوئی

ڈھونڈنے نکلوں تو اپنا بھی نہ رستہ پاؤں

لیے پھرتا ہوں خیالوں کا دہکتا دوزخ

سر سے یہ بوجھ اتاروں تو خدا ہو جاؤں

شہزاد احمد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(1053) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Shahzad Ahmed, Is Bharay Shehr Main Aram Main Kaisay Paon in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 101 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.4 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Shahzad Ahmed.