Kabhi Ratailay Khoshk Maidan Main

کبھی ریتیلے خشک میدان میں

کبھی ریتیلے خشک میدان میں

کوئی بادل کا آوارہ ٹکڑا

کسی گھر سے بھاگے ہوئے پیارے بچے کی مانند

آوارگی کرتا کرتا

زمانوں سے سوکھی ہوئی ریت کو پیار سے دیکھتا ہے

وہ اچھی طرح جانتا ہے

کہ اس ریت کے خشک سینے میں دل ہے

جو اپنی تباہی پہ روتا نہیں ہے

جو کہتا نہیں ہے

کہ ''آؤ مجھے اس گڑھے سے نکالو

مرے منہ کو دھو کر

مری مانگ میں سبز پتوں کا چندن بھرو''

وہ بادل کا آوارہ ٹکڑا

جو بچوں کی مانند معصوم ہے

اپنی کاجل لگی بھیگی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھتا ہے

وہ روتا ہے

اور اس کے آنسو

سلگتی ہوئی ریت کے خشک سینے میں ہلچل مچاتے ہیں

خوشبو لٹاتے ہیں

اور ان کی خوشبو

مسافر اکیلے مسافر سے کہتی ہے

چلتے رہو

ابھی زندگی میں نمی ہے

ابھی سرد جھونکوں کا سیلاب سویا نہیں ہے

شہزاد احمد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(512) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ شاعری

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Shahzad Ahmed, Kabhi Ratailay Khoshk Maidan Main in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 101 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.6 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Shahzad Ahmed.