Khaliq Nay Cheen Li Mujh Say Meri Tanhaie Tak

خلق نے چھین لی مجھ سے مری تنہائی تک

خلق نے چھین لی مجھ سے مری تنہائی تک

عشق آ پہنچا ہے الزام سے رسوائی تک

کھول رکھا ہے یہ دروازۂ دل تیرے لیے

کاش تو دیکھ سکے روح کی گہرائی تک

کیوں ہوں میں اور مرے غم کا اسے احساس کہاں

ہے ملاقات فقط انجمن آرائی تک

یوں تو ہم اہل نظر ہیں مگر انجام یہ ہے

ڈھونڈتے ڈھونڈتے کھو دیتے ہیں بینائی تک

کھل گئے وہ تو کھلا اپنی محبت کا بھرم

ولولے دل میں ہزاروں تھے شناسائی تک

ڈوبنا اپنا مقدر تھا مگر ظلم ہے یہ

بہہ گئے ایک ہی ریلے میں تماشائی تک

خشک مٹی پہ بھی گرتا نہیں پتا کوئی

خامشی وہ ہے کہ چلتی نہیں پروائی تک

شہر میں اہل جفا اہل ریا رہتے ہیں

یہ ہوا کاش نہ پہنچے ترے سودائی تک

اپنے انجام پہ خود روئے گی شمع محفل

چھوڑ جائیں گے اسے اس کے تمنائی تک

ہم نے بھی دشت نوردی تو بہت کی شہزادؔ

ہاتھ پہنچا نہ کسی لالۂ صحرائی تک

شہزاد احمد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(1099) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Shahzad Ahmed, Khaliq Nay Cheen Li Mujh Say Meri Tanhaie Tak in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 101 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.8 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Shahzad Ahmed.