Khat Main Is Ko Kaisay Likhain Kya Pana Kya Khona Hai

خط میں اس کو کیسے لکھیں کیا پانا کیا کھونا ہے

خط میں اس کو کیسے لکھیں کیا پانا کیا کھونا ہے

دوری میں تو ہو نہیں سکتا جو آپس میں ہونا ہے

نیند کا پنچھی آ پہنچا ہے وحشی دل کی بات نہ سن

مل بھی گئے تو آخر تھک کر گہری نیند ہی سونا ہے

وہ آیا تو سارے موسم بدلے بدلے لگتے ہیں

یا کانٹوں کی سیج بچھی تھی یا پھولوں کا بچھونا ہے

ابھی تو خشک بہت ہے موسم بارش ہو تو سوچیں گے

ہم نے اپنے ارمانوں کو کس مٹی میں بونا ہے

ہم کو نصیحت کرنے والے خود بھی یہی کچھ کرتے ہیں

تم کیا قصے لے بیٹھے ہو یہ عمروں کا رونا ہے

کانچ کی گڑیاں طاق میں کب تک آپ سجائے رکھیں گے

آج نہیں تو کل ٹوٹے گا جس کا نام کھلونا ہے

بڑے بڑے دعوے ہیں لیکن چھوٹے چھوٹے قد شہزادؔ

پھانکنی ہے کچھ خاک ان کو کچھ پانی انہیں بلونا ہے

شہزاد احمد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(820) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Shahzad Ahmed, Khat Main Is Ko Kaisay Likhain Kya Pana Kya Khona Hai in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 101 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 5 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Shahzad Ahmed.