Tairay Ghar Ki Bhi Wohi Dewar Thi Darwaza Tha

تیرے گھر کی بھی وہی دیوار تھی دروازہ تھا

تیرے گھر کی بھی وہی دیوار تھی دروازہ تھا

پھر وہی باتیں ہوئیں جن کا مجھے اندازہ تھا

سرد پتھر جاں فزا ملبوس میں لپٹے ہوئے

ہائے وہ دنیا جہاں چہرے نہ تھے غازہ تھا

ہر نفس روشن ہوا میرے لہو کے رنگ سے

زندگی کیا تھی مرا بکھرا ہوا شیرازہ تھا

رہ گئی ہیں اب مرے ہاتھوں میں سوکھی پتیاں

صبر کی طاقت کہاں تھی پھول جب تک تازہ تھا

سوچتے رہتے تھے کیوں تار نفس کٹتا نہیں

بے طلب جینا ہمارے جرم کا خمیازہ تھا

جو بلاتی تھی مجھے صحن گلستاں کی طرف

پھول کی خوشبو نہیں تھی برق کا آوازہ تھا

جب چڑھے دریا پہاڑوں کو بہا کر لے گئے

ڈر رہے تھے سب مگر اتنا کسے اندازہ تھا

شہزاد احمد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(768) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Shahzad Ahmed, Tairay Ghar Ki Bhi Wohi Dewar Thi Darwaza Tha in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 101 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.3 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Shahzad Ahmed.