Jab Tary Khawab Se Bedaar Howa Karte Thay

جب ترے خواب سے بیدار ہوا کرتے تھے

جب ترے خواب سے بیدار ہوا کرتے تھے

ہم کسی رنج سے دو چار ہوا کرتے تھے

آئنے چشم تحیر سے ہمیں دیکھتے تھے

ہم کہ جب تیرے گرفتار ہوا کرتے تھے

آج معلوم ہوا تیری ضرورت ہی نہ تھی

ہم یونہی تیرے طلب گار ہوا کرتے تھے

اب تو ہم روز انہیں پاؤں تلے روندتے ہیں

یہ ہی رستے تھے جو دشوار ہوا کرتے تھے

دولت عشق سے ہم کام چلاتے تھے میاں

بس یہی درہم و دینار ہوا کرتے تھے

بارہا یوں بھی ہوا ڈوبے ہوئے خواب مرے

اس کی آنکھوں سے نمودار ہوا کرتے تھے

آپ ہی آپ کہانی سے نکلتے جاتے

جو مرے جیسے اداکار ہوا کرتے تھے

لو کہ ہم بوجھ اٹھاتے ہیں زمیں سے اپنا

ہم کبھی اس پہ بہت بار ہوا کرتے تھے

آج جو لوگ خریدار ہیں تیرے اظہرؔ

کل یہی میرے خریدار ہوا کرتے تھے

اظہر عباس

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(742) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Syed Azhar Abbas, Jab Tary Khawab Se Bedaar Howa Karte Thay in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 18 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.8 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Syed Azhar Abbas.