Barsoon Purana Dost Milla Jaise Gair Hoo

برسوں پرانا دوست ملا، جیسے غیر ہو

برسوں پرانا دوست ملا، جیسے غیر ہو

دیکھا، رکا، جھجک کے کہا: "تم.. عمیر ہو؟"

کمرے میں سگرٹوں کا دھواں اور تری مہک

جیسے شدید دھند میں باغوں کی سیر ہو

ملتے ہیں مشکلوں سے یہاں، ہم خیال لوگ

تیرے تمام چاہنے والوں کی خیر ہو

پیروں میں اس کے سر کو دھریں، التجا کریں

اک التجا کہ جس کا نہ سر ہو نہ پیر ہو

ہم مطمئن بہت ہیں اگر خوش نہیں بھی ہیں

تم خوش ہو، کیا ہوا جو ہمارے بغیر ہو

اک حادثہ ہو اور اچانک اٹھائے جائیں

جب بھی ہو اختتام ہمارا، بخیر ہو

کچھ تو ہو درمیان، بچھڑنے کے بعد بھی

کچھ بھی، بھلے قلق ہو، شکایت ہو، بیر ہو

عمیر نجمی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(1499) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Umair Najmi, Barsoon Purana Dost Milla Jaise Gair Hoo in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 28 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.2 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Umair Najmi.