Wo Dekhta Hai Yehi Soch Kar Namaz Parhi

وہ دیکھتا ہے، یہی سوچ کر نماز پڑھی

وہ دیکھتا ہے، یہی سوچ کر نماز پڑھی

ہمیشہ عشق کے زیرِ اثر نماز پڑھی

میں زندگی کو مسلسل سفر سمجھتا ہوں

سو جب نماز پڑھی، مختصر نماز پڑھی

سمے سے قبل، جنوں کے بغیر، عشق کیا

اذاں سنی نہ وضو تھا مگر نماز پڑھی

قریب تھی کوئی مسجد نہ پاس جائے نماز

بچھا کے سایہ، سرِ رہ گزر، نماز پڑھی

پھر اس سے جوڑ لیا ربط، جس سے توڑا تھا

غلط پڑھی تھی سو بارِ دگر نماز پڑھی

سنا ہے پہلے یہاں آب، دستیاب نہ تھا

پھر اک فقیر نے آ کر ادھر نماز پڑھی

نمازیوں کو رعایت ہے تیز بارش میں

سو جب بھی گریہ کیا میں نے، گھر نماز پڑھی

کہے گا، پہلی نمازیں، نمازیں تھیں ہی نہیں

تمہارے ساتھ کسی نے اگر نماز پڑھی

میں پانچ وقت اذانوں پہ سوچتا ہوں اسے

کبھی قضا نہ ہوئی، وقت پر نماز پڑھی

اک ایسی ذات بھی ہے جو کبھی نہیں سوتی

یہ سن کے سو نہ سکا، رات بھر نماز پڑھی

عمیر نجمی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(1281) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Umair Najmi, Wo Dekhta Hai Yehi Soch Kar Namaz Parhi in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social, Islamic Urdu Poetry. Also there are 28 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.4 out of 5 stars. Read the Social, Islamic poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Umair Najmi.