Chaand Taron Ka Tre Rubaroo Sajda Karna

چاند تاروں کا ترے روبرو سجدہ کرنا

چاند تاروں کا ترے روبرو سجدہ کرنا

خواب دیکھا ہے تو کیا خواب کا چرچا کرنا

حسن برہم سے مرا عرض تمنا کرنا

جیسے طوفان میں ساحل سے کنارا کرنا

راس آئے گا نہ یہ کوشش بے جا کرنا

بد گمانی کو بڑھا کر مجھے تنہا کرنا

میری جانب سے ہے خاموش دریچے کا سوال

کب سے سیکھا تری آواز نے پروا کرنا

ہر قدم پر مری کانٹوں نے پذیرائی کی

جرم پوچھو تو بہاروں کی تمنا کرنا

دعوت شوخیٔ تقدیر اسے کہتے ہیں

کار امروز نہ کرنا غم فردا کرنا

ان کی محتاط نگاہی نے بھرم کھول دیا

جن کو منظور نہ تھا راز کا افشا کرنا

وقت کے ہاتھوں میں تریاک بھی ہے زہر بھی ہے

اس کو یک رنگ سمجھ کر نہ بھروسا کرنا

ترجمان غم دل ان کی نظر ہوتی ہے

جن کو آتا نہیں اظہار تمنا کرنا

خود نمائی نہیں انسان کی خودداری ہے

پرچم عظمت کردار کو اونچا کرنا

ظلمت جنبش لب کی نہیں امید مگر

نگہ ناز نہ بھولے گی اشارا کرنا

گو میں یوسف نہیں دامن تو مرے پاس بھی ہے

تم ذرا پیروی‌ دست زلیخا کرنا

اے کہ تو نازش صناعیٔ دست فطرت

کاش آتا نہ تجھے خون تمنا کرنا

جادۂ عشق میں اک ایسا مقام آتا ہے

شرط اول ہے جہاں ترک تمنا کرنا

آپ کے عہد وفا پر مرا ایماں جیسے

کسی گرتی ہوئی دیوار پہ تکیہ کرنا

کوشش ضبط میں ہر سانس قیامت ہے عروجؔ

کھیل سمجھے ہو غم دل کو گوارا کرنا

عروج زیدی بدایونی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(586) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of UROOJ ZAIDI BADAYUNI, Chaand Taron Ka Tre Rubaroo Sajda Karna in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 13 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.3 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of UROOJ ZAIDI BADAYUNI.