بند کریں
شاعری ایاز خاں دہلویتفکرات کے سائے تلے اور روز و شب ہیں
تفکرات کے سائے تلے اور روز و شب ہیں
شاعر : ایاز خاں دہلوی
تفکرات کے سائے تلے اور روز و شب ہیں
میری جفائوں کا خُمیازہ ہے اور روز و شب ہیں
ڈھونڈتی ہوں اپنے الفاظ تاقیامت ساتھ نبھانے کے
پیچھا کرتے ہیں خیالوں میں اور روز وشب ہیں
ہر طرف ہیں زر پرستوں کے سائے میری زندگی میں
خالی ہے میرا مقدر خوشیوں سے اور روز وشب ہیں
میں نے ہی اتار پھینکا تھا تیری وفائوں کا لبادہ
ہیں مقدر میں اماوس کی تاریکیاں اور روز وشب ہیں
بڑا زُعم تھا مجھے اپنی ہستی میں بسی فکر نوع پر
حقیقتوں سے ہوا زہن خالی اور روز وشب ہیں
تقدیر نے دکھایا مجھ کو اپنی قوت کا کرشمہ
ہر طرف ہیں بربادیوں کے قصے اور روز وشب ہیں
غافل ہوں اب بھی ایاز کی وفائوں کی قدرو قیمت سے
پیوستہ ہے احساس شرمندگی و ندامت اور روز و شب ہیں
ایاز خاں دہلوی © جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

(0) ووٹ وصول ہوئے