بند کریں
شاعری محمد یعقوب آسینظم : ذرا سی بات
نظم : ذرا سی بات
شاعر : محمد یعقوب آسی
ذرا سی بات ہی تو تھی
مرے بیٹے نے یونہی بر سبیلِ تذکرہ
مجھ کو بتایا:
’’وہ جو اپنی خالدہ ہے
اس کے بھائی کو
خدا نے چاند سا بیٹا دیا اور لے لیا‘‘
یہ بات کل کی ہے

مری پوتی جو اپنی عمر کے چوتھے برس میں ہے
وہیں اپنے کھلونوں میں مگن تھی
چونک کر بولی:
’’سنیں بابا!
ابھی اس گوشت والی عید سے پہلے
جو میٹھی عید آئی تھی
خدا نے میری ’دادو‘ کو بلا بھیجا تھا
اب کس کو بلایا ہے؟‘‘

ذراسی بات ہی تو تھی
جو اِک بچی نے کہہ دی تھی
مگر جانے اسے سن کر
مرے اندر کہیں
اک زلزلہ سا کیوں اٹھا تھا
ذہن کی شفاف نیلی وسعتوں میں
ابر کا ٹکڑا کہاں سے آ گیا تھا
کون سی آندھی چلی تھی!
جیسے کوئی چیخ اٹھتی ہے
نہ جانے کس طرح کا ابر تھا
جو میرے سینے میں تلاطم کر گیا برپا
بڑا مشکل تھا مجھ کو
دیکھنا اُس دھند کے اُس پار
جو آنکھوں میں پھیلی تھی

مری پوتی کا ’بابا‘ میرا بیٹا
میرے بازو دابتا تھا
کچھ نہیں بولا
مجھے اک خوف سا بھی تھا
کہ میرے بوڑھے دست و پا پہ طاری
زلزلے جیسی وہ کیفیت
مرے بیٹے کو باور ہو نہ پائے!
کیسے ممکن ہے!
کہا میں نے اشارے سے:
’’کہ بیٹا! ٹھیک ہے اتنا ہی کافی ہے‘‘
اگر میں بولتا تو میرے گیلے حرف
لفظوں میں تو ڈھلتے یا نہ ڈھلتے
پر، اسے سب کچھ بتا دیتے

ذرا سی بات ہی تو تھی
بہو کہنے لگی:
’’ابو! یہ دوجی چارپائی؟
اب ہٹا دیتے ہیں اس کو
کیا ضرورت ہے یہاں اس کی‘‘
کہا:
’’ہرگز نہیں! اس کو یہیں رکھو!
یہ جیسا میرا بستر ہے
اسی جیسا لگا دو
چادریں تکیے اسی جیسے
چلو، کمبل کو رہنے دو‘‘
کہ یادیں
موسموں کی قید سے آزاد ہوتی ہیں

نومبر ہو دسمبر ہو
مئی ہو جون ہو
یادوں کی رم جھم ہوتی رہتی ہے
یہ میٹھی عید کی صورت
جگا دیتی ہیں کوئی درد میٹھا سا

وہ میٹھی عید ہی تو تھی
وہ عید الفطر جو ہم نے منائی تھی
بڑے مہمان آئے تھے
بڑی رونق تھی گھر میں
اور اِک اِک سے گلے ملتے
یہ میری عمر خوردہ ہڈیاں تک چرچرا اٹھیں
کہا تھا میں نے:
’’دیکھو، عائشہ دیکھو!
بڑے مہمان آئے ہیں
انہیں چائے تو پلواؤ
کوئی نمکو، کوئی بسکٹ
کوئی گھر کا بنا بیسن کا حلوہ
یا
تمہارے ہاتھ کی مہکار سے لبریز
کچھ بھی ہو
تواضع کچھ تو ہو جائے!‘‘

مرے دل کے کسی کونے سے
اک دھیمی سی سرگوشی اٹھی تھی:
’’مجھ کو جانا ہے، مجھے جلدی ہے
اب تم خود ہی اپنے دوستوں کے واسطے
پینے کی کوئی شے
کوئی نمکین کھاری شے بہم کر لو‘‘
میں کیا لاتا؟
کہ اپنے اشک سارے پی چکا تھا میں!

بسا اوقات پچھلی رات
مجھ کو نیند کے عالم میں
اک کمزور سی، بیمار سرگوشی سنائی دی:
’’مجھے بتی جلا دو‘‘
میں اٹھا بتی جلائی تو
وہاں ... کوئی نہ تھا، میں تھا!
اسے کوئی ذرا سی بات کہتا ہے ، کہے
میں کس طرح کہہ دوں!

وہ کلیاں موتیے کی
جو کبھی وہ توڑ لاتی تھی
کبھی میں چن دے لا دیتا
اسے تسکین ملتی تھی
تو اس کے خشک ہونٹوں پر
تراوٹ سے بھری مسکان کھلتی تھی
وہ جھریاں اس کے گالوں کی
اگرچہ ایک دو لمحے کو ہوتیں
پر کہیں معدوم ہو جاتیں!
نگاہوں میں پھر اس کی
ایک نرماہٹ بھری میٹھی چمک ہوتی
وہ خود اِک موتیا لگتی!
تو میرے ہر بُنِ مو میں
کہیں اک موتیا سا مسکرا اٹھتا

مگر، اُس عید سے اَب تک
مرے گھر میں کھڑی،
تازہ دکھائی دے رہی
وہ موتیے کی جھاڑیاں ویران ہیں
جیسے انہیں معلوم ہو
وہ خشک لب، جھریوں بھرا چہرہ
تو منوں مٹی کے نیچے دب چکا ہے
اور کوئی
دیکھ کر کھلتی ہوئی کلیاں
اداسی اور تنہائی کی آندھی میں
بکھر جائے گا
تب اِس گھر کے
جیتے جاگتے پھولوں کا کیا ہو گا!
ذرا سی بات ہے یہ کیا!؟

ذرا سی بات ہی تو ہے!
جہانِ برگ و گل میں
زندگی کا ہے سفر جاری
ابھی کچھ دن ہوئے
اس گھر کے آنگن میں
’’صبیحہ‘‘ نام کا اک پھول اترا ہے
سحر کی تازگی کے،
نرم رو بادِ بہاری کے جلو میں
اس کے برگِ گل سے نازک تر
لبِ تازہ پہ جو مسکان ہوتی ہے
مجھے وہ ایسے دوراہے پہ لاکے
چھوڑ دیتی ہے
کہ میں کچھ کہہ نہیں سکتا!
مری آنکھیں سناتی ہیں کہانی
میری پلکوں کو
تو شبنم کی نمی تک جھوم اٹھتی ہے

میں اپنے دل سے کہتا ہوں:
’’میاں سنبھلو! ذرا سی بات ہی تو ہے!‘‘
یہی اک سانس کی ڈوری
یہ نازک ریشمی دھاگا
کسی بھی وقت
بارش کے کسی قطرے سے
بھی تو ٹوٹ بھی سکتا ہے
سو یہ بھی اک ذرا سی بات ہو گی نا!
ذرا سی بات ہی تو ہے!
محمد یعقوب آسی © جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان