بند کریں
شاعری نعیم ناز قیصرانی غزل

نعیم ناز قیصرانی

naeem naz qaisrani

مزید شاعری

غزل
شاعر : نعیم ناز قیصرانی
کوئی رشتہ تیرے پیمان سے جوڑا جائے
اب میرے ہجر کو عنوان سے جوڑا جائے

قصہء حُسن کو کنعان سے جوڑا جائے
عشق کو پھر کسی زندان سے جوڑا

اشک سینے سے روانہ ہوئے آنکھوں کی طرف
ان کی طغیانی کو طوفان سے جوڑا جائے

یہ تو پنچھی ہیں نئی رُت میں پلٹ جایئں گے
ربط کیسے کسی مہمان سے جوڑا جائے

رب نے جنت بھی بنائی ہے اسی کی خاطر
ایک خوش فہمی کو انسان سے جوڑا جائے

تیری تہذےب سے وحشت کو بھی خوف آتا ہے
تیری بستی کو بیابان سے جوڑا جائے

قید ہوتی ہے بھلا ناز کہےں نکہت. گُل
پُھول کو کس لیے گلدان سے جوڑا جائے
نعیم ناز قیصرانی © جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان