Ishaaron Kinayon Main Batain Bnana

اشاروں کنایوں میں باتیں بنانا ، لجاجت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے

اشاروں کنایوں میں باتیں بنانا ، لجاجت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے

تیرا بند پلکوں سے یوں مسکرانا ، شرارت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے

میرے دل کی دہلیز پے پاؤں رکھ کر ، دبے پاؤں ایسے تیرا آنا جانا

میری جان مجھ کو ذرا یہ بتادو ، یہ عادت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے

رفاقت کے وعدے ، وہ عہد محبّت ، میرے ساتھ کر کے بھلا دینے والے

مجھے اپنے دل سے جدا تیرا کرنا ، سیاست نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے

تیرے عارض و لب کو میں نے سنوارا ، تو کیوں خود میں مورد الزام ٹھرا

یہ پوچھو ذرا اپنی قاتل ادا سے ، سفاہت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے

یہ عرفان ہے تیری عظمت کا ورنہ ، میں اب تک ہوں زندہ تو یہ معجزہ بھی

میرے ہاتھ کی ان لکیروں سے پوچھو ، کرامت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے

محبّت کے سارے تقاضوں کو میں نے ، مکمّل دیانت سے پورا کیا ہے

حفاظت سے رکھنا تحائف کو تیرے ، امانت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے

وہ ایوان میں بیٹھے منصف کے آگے ، تمہاری جفاؤں پے پردے گرا کر

ہر الزام سے تم کو رعیت دلانا ، حمایت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے

وہ قیس اور فرہاد کے سارے قصّے ، جدا تو نہیں ہیں میری داستاں سے

مگر اہل دانش میری داستاں بھی ، حکایت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے

بہت ہی مرادوں سے پایا تھا تم کو ، بہت مدّتوں بعد ہم کو ملے تھے

تمہاری جدائی پے اس زندگی پر ، اب ملامت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے

جنم دن ہے ساحل وہ یاد آرہے ہیں ، خدا کی قسم ہم کو یاد آرہے ہیں

دیوانوں کے جیسی ہی دیوانے پن کی ، یہ حالت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے

ساحل احمد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(831) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Poetry of Sahil Ahmed, Ishaaron Kinayon Main Batain Bnana in Urdu. Also there are 17 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.1 out of 5 stars. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Sahil Ahmed.