Ghalib Ka Khat Meray Naam

غالب کا خط میرے نام

غالب کا خط میرے نام

عاصم تو اک شاعر ہے اور شعر کا مطلب جانے ہے

بہر ہے کیسی وزن ہی کیسا سب کچھہ تو پہچانے ہے

تو شاعر کم ہے ساحر ہے اور اپنے فن میں ماہر ہے

یہ تو صاف ظاہر ہے پھر کاہے تو نہیں مانے ہے

درد کو درد بھی ہوتا تھا اور میر بھی آنسو روتا تھا

یہ پیار کا اک سمجھوتا تھا تو اصل حقیقت جانے ہے

غالب کو میرا جواب

غالب تو نے شعر لکھے تھے آج بھی وہ سب پڑھتے ہیں

عاصم کو کوئی شاعر نہ مانے سب غالب غالب کرتے ہیں

شاعر تو بھی شاعر میں بھی دونوں فن کے ماہر ٹہھرے

دنیا والے سمجھ رہے ہیں پر سچ کہنے سے ڈرتے ہیں

میر نے چھوٹی غزل کہی اور نام بڑا ہی پایا ہے

شعر میں کہنا چھوڑ ہی ڈالوں لوگوں نے سمجھایا ہے

شعر لکھوں تو دل کو میرے عجب سی راحت ملتی ہے

انشاء جی سے تھوڑی تھوڑی میری عادت ملتی ہے

دنیا والوں سے تنگ آ کر یہ انشاء نے فرمایا ہے

سب مایا ہے سب مایا ہے سب مایا ہے سب مایا ہے

محمدعاصم نقوی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(538) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ شاعری

Your Thoughts and Comments

Urdu Poetry of Syed Muhammad Asim Naqvi, Ghalib Ka Khat Meray Naam in Urdu. Also there are 6 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.9 out of 5 stars. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Syed Muhammad Asim Naqvi.