بند کریں
شاعری عثمان انیس مشکل ہے مرحلہ اسے اب آسان تو کرنا
مشکل ہے مرحلہ اسے اب آسان تو کرنا
شاعر : عثمان انیس
مشکل ہے مرحلہ اسے اب آسان تو کرنا
یا خدا اس قوم پر اک یہ احسان تو کرنا

ہیں اشرف المخلوق مگر احساس نہیں ہے
ہر سو ہیں آدمی پر انہیں انسان تو کرنا

ہر گز نہ کبھی ہم راہ حق سے ہٹیں گے
تجھ سے جو بھی ہو اے شیطان تو کرنا

وہ سوچ رہے ہیں تو لڑائی ہار جائے گا
دشمن جو تیرے ہیں انہیں حیران تو کرنا

تقدیر کے افق پر ہیں چھائی کالی بدلیاں
بے کس پہ کرم اے میرے رحمان تو کرنا

دو دن کی سیر کو تو تیرا بیگ بھرا ہے
کچھ آخری سفر کا بھی سامان تو کرنا

دل جو کسی کا توڑا رب روٹھ جائے گا
غلطی نہ کبھی ایسی اے نادان تو کرنا

یا خدا عثماں کی تجھ سے فقط ایک دُعا ہے
کافر ہیں مجھ سے جو بھی مسلمان تو کرنا
عثمان انیس © جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان