Band Gali

بند گلی

بند گلی!!!!

اِس طرف سے دیکھیں تو تو بھی یہ تمنائیں

ایک پل کو لگتا ہے نیم برہنہ جیسے، اک بدن سی لگتی ہیں

جیسے کچھ نہیں ہو گا بے کفن سی لگتی ہیں

جیسے جب چلیں گے ہم اُس طرف یہ طے ہے کہ

تو گزر ہی جائیں گے اضطراب بیٹھا ہے

اپنی نامکمل سی سوچ کے بہائو میں ہم نے جھیل رکھا ہے

اپنے اپنے جذبوں کی ڈولتی سی نائو میں اک عذاب بیٹھا ہے

جیسے جب بڑھیں گے ہم پار کر ہی جائیں گے سطحِ آب مت دیکھو !

وقت نے جو رکھے ہیں راستوں میں دریا سے اصل میں جو طوفاںہے

جیسے جب پکاریں گے تو اتر ہی جائیں گے زیرِ آب بیٹھا ہے

کیا عجب تماشہ ہے ، کیوں لگا کے رکھا ہے اُس طرف کا شیوہ ہے

سانس کو صلیبوں پر ،کیوں سجا کے رکھا ہے اک شکست جنموں کی

اب جلن کا رونا کیوں، درد کا گلہ کیسا !!!! اور یہ محبت کہ تِیرہ بخت جنموں کی

آگ کو ہتھیلی پر، خود اٹھا کے رکھا ہے۔ نہ کوئی وفا ممکن

خواہشوں کے جسموں کو نہ یہ پیار ممکن ہے

فیصلوں کی چادر میں ہم اگر چھپا بھی لیں یہ سفر نہیں ممکن

لمحہئ غروب سے نہ قرار ممکن ہے

مستعار لے کر اپنی بند گلیوں سے بتائو

پتلیوں، پپوٹوں میں آگ سی جلا بھی لیں کب فرار ممکن ہے

ذیشان احمد ذکی ؔ

ذیشان احمد ذکی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(753) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Poetry of Zeeshan Ahmad Zaki, Band Gali in Urdu. Also there are 16 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.4 out of 5 stars. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Zeeshan Ahmad Zaki.