Mahabbat

محبت

محبت

تھکن سے چور

بوڑھے بے اولاد فقیر کی خواہشوںکی طرح

میں بھی اس نیند کی بستی سے چپ چاپ گزر جاتا ہوں

میری آنکھوں کے سیاہ رنگ دائروں کا متن

میرے ہونٹوں پہ سلگتے ہوئے لفظوں کی جلن

ایک اندیشہ ٔ ناکامی ٔ حسرت کا حصار

ایک امّید کی منڈیر پہ آسیب ہزار

خواب در خواب نگاہوں میں پگھلتے ہوئے عکس

زندگی جیسے کسی ہاتھ پہ ریکھاؤں کا رقص

جیسے خاموشی کی پہنائی میں بے ربط صدا

جیسے بے جرم مسافر کو بھٹکنے کی سزا

جیسے متضاد زبانوں میں کوئی ایک سی بات

جیسے دو لوگوں میں رشتے کی وجہ ہوں حالات

جیسے بجھتی ہوئی شمع کے لئے آبِ حیات

اِس محبت کی کوئی صبح ، کوئی شام نہیں

اِس حقیقت میں کسی طور سے ابہام نہیں

]اور ہم تشنہ و تاریک مقدر والے

اپنے حصے میں مسرت کا کوئی جام نہیں

ہم تو کہتے ہیں ہمیں مات سُنا دی جائے

لوگ کہتے ہیں اِس کھیل کا انجام نہیں

اب جو آئے ہو تو اب جان گنوا کر جانا

یہ محبت تو محبت ہے کوئی کام نہیں

یہ محبت تو محبت ہے کوئی کام نہیں

ذیشان احمد ذکی ؔ

ذیشان احمد ذکی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(408) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Poetry of Zeeshan Ahmad Zaki, Mahabbat in Urdu. Also there are 14 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.4 out of 5 stars. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Zeeshan Ahmad Zaki.