Arzoo Le Ke Koi Ghar Se Nikaltay Kyun Ho

آرزو لے کے کوئی گھر سے نکلتے کیوں ہو

آرزو لے کے کوئی گھر سے نکلتے کیوں ہو

پاؤں جلتے ہیں تو پھر آگ پہ چلتے کیوں ہو

شہرتیں سب کے مقدر میں کہاں ہوتی ہیں

تم یہ ہر روز نیا بھیس بدلتے کیوں ہو

یوں تو تم اور بھی مشکوک نظر آؤ گے

بات کرتے ہوئے رک رک کے سنبھلے کیوں ہو

ہاں! تمہیں جرم کا احساس ستاتا ہوگا

ورنہ یوں راتوں کو اٹھ اٹھ کے ٹہلتے کیوں ہو

اور بازار سے غالبؔ کی طرح لے آؤ

دل اگر ٹوٹ گیا ہے تو مچلتے کیوں ہو

تم نے پہلے کبھی اس بات کو سوچا ہوتا

پیڑ کی چھاؤں میں بیٹھے ہو تو جلتے کیوں ہو

والی آسی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(411) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of WALI AASI, Arzoo Le Ke Koi Ghar Se Nikaltay Kyun Ho in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 21 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.1 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of WALI AASI.