Bohat Din Se Koi Manzar Banana Chahtay Hain Hum

بہت دن سے کوئی منظر بنانا چاہتے ہیں ہم

بہت دن سے کوئی منظر بنانا چاہتے ہیں ہم

کہ جو کچھ کہہ نہیں سکتے دکھانا چاہتے ہیں ہم

ہمارے شہر میں اب ہر طرف وحشت برستی ہے

سو اب جنگل میں اپنا گھر بنانا چاہتے ہیں ہم

ہمیں انجام بھی معلوم ہے لیکن نہ جانے کیوں

چراغوں کو ہواؤں سے بچانا چاہتے ہیں ہم

نہ جانے کیوں گلے میں چیخ بن جاتی ہیں آوازیں

کبھی تنہائی میں جب گنگنانا چاہتے ہیں ہم

کوئی آساں نہیں سچائی سے آنکھیں ملا لینا

مگر سچائی سے آنکھیں ملانا چاہتے ہیں ہم

کبھی بھولے سے بھی اب یاد بھی آتی نہیں جن کی

وہی قصے زمانے کو سنانا چاہتے ہیں ہم

والی آسی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(334) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of WALI AASI, Bohat Din Se Koi Manzar Banana Chahtay Hain Hum in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 21 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.2 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of WALI AASI.