Ajeeb Hai Yeh Silsila

عجیب ہے یہ سلسلہ

عجیب ہے یہ سلسلہ

یہ سلسلہ عجیب ہے

ہوا چلے تو کھیتیوں میں دھوم چہچہوں کی ہے

ہوا رکے تو مردنی ہے

مردنی کی راکھ کا نزول ہے

کہاں ہے تو کہاں ہے تو

کہاں نہیں ہے تو بتا

ابھی تھا تیرے گرتے اڑتے آنچلوں کا سلسلہ

اور اب افق پر دور تک

گئے دنوں کی دھول ہے

گئے دنوں کی دھول کا یہ سلسلہ فضول ہے

میں رو سکوں

تو کیا یہ گدلی کائنات دھل سکے گی

میرے آنسوؤں کے جھاگ سے

میں مسکرا سکوں

تو کیا سفر کی خستگی کو بھول کر یہ کارواں نجوم کے

برس پڑیں گے موتیے کے پھول بن کے

اس مہیب کاسۂ حیات میں

نہ تو سنے نہ میں کہوں

نہ میرے انگ انگ سے صدا اٹھے

یوں ہی میں آنسوؤں کو قہقہوں کو

اپنے دل میں دفن کر کے

گم

لبوں پہ سل دھرے

ترے نگر میں پا پیادہ پا برہنہ

شام کے فشار تک رواں رہوں

مگر کبھی

تری نظر کے آستاں کو

پار تک نہ کر سکوں

کہ تو ازل سے تا ابد

ہزار صد ہزار آنکھ والے وقت

کی نقیب ہے

یہ سلسلہ عجیب ہے

یہ سلسلہ عجیب ہے

وزیر آغا

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(416) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Wazir Agha, Ajeeb Hai Yeh Silsila in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 101 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.6 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Wazir Agha.