Darakht Din Raat Kanpate Hain

درخت دن رات کانپتے ہیں

درخت دن رات کانپتے ہیں

پرند کتنے ڈرے ہوئے ہیں

فلک پہ تارے زمیں پہ جگنو

گھروں کے اندر چھپے خزانے

کٹے پھٹے سب بدن پرانے

قدیم چکنی طویل ڈوری میں بندھ گئے ہیں

کثیف ڈر کی غلیظ مٹھی میں آ گئے ہیں

کہاں گئے وہ دلوں کے بندھن

گلاب ہونٹوں کی نرم قوسیں

زمیں جو راکھی سی بن کے

سورج کے ہاتھ پر مسکرا رہی تھی

کہاں گئی وہ ہوا جو پینگیں بڑھا رہی تھی

وہ سبز خوشبو جو بند نافع

گلی گلی پھر کے بانٹتی تھی

وہ ہاتھ تھامے

نحیف جسموں کی ایک لمبی قطار جس میں

کہیں بھی کوئی تڑخ نہیں تھی

یہ کون ہیں ہم

جو سہمے پیڑوں

ڈرے پرندوں لرزتے تاروں

سے بندھ گئے ہیں

خود اپنے سایوں سے ڈر گئے ہیں

وزیر آغا

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(383) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Wazir Agha, Darakht Din Raat Kanpate Hain in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 101 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.8 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Wazir Agha.