Jab Aankh Khuli Mari

جب آنکھ کھلی میری

سورج کا زرہ بکتر

چمکا تو میں گھبرایا

ٹوٹی ہوئی کھڑکی سے

لہراتا ہوا نیزہ

کوندے کی طرح آیا

میں درد سے چلایا

ہونٹوں نے پڑھے منتر

سیماب سی پوروں نے

اک پوٹلی ابرک کی

چھڑکی مرے چہرے پر

اور کرنوں کا اک چھینٹا

مارا مری آنکھوں پر

آنکھیں مری چندھیائیں

کچھ بھی نہ نظر آیا

جب آنکھ کھلی میری

دیکھا کہ ہر اک جانب

زرتار سی کرنوں کا

اک زرد سمندر تھا

اور زرد سمندر میں

چاندی کی پہاڑی پر

میں پیڑ تھا سونے کا

شاخوں میں مری ہر سو

جھنکار تھی پتوں کی

اڑتی ہوئی چڑیوں کی

یا آگ کی ڈلیوں کی

اک ڈار سی آئی تھی

اور مجھ میں سمائی تھی

قدموں کے تلے میرے

زنجیر تھی لمحوں کی

میرے زرہ بکتر سے

جو کوندا لپکتا تھا

تاروں کے جھروکوں تک

پل بھر میں پہنچتا تھا

میں جسم کے مرقد سے

باہر بھی تھا اندر بھی

میں خود ہی پہاڑی تھا

اور خود ہی سمندر بھی

وزیر آغا

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(1069) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Wazir Agha, Jab Aankh Khuli Mari in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 101 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.8 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Wazir Agha.