Kahan Se Tum Aaye Ho Bhai

کہاں سے تم آئے ہو بھائی

سفیدے کے سنبل کے

اور پوپلر کے چھریرے شجر

مری جوہ میں آئے تھے جب

مری سبز دھرتی کا اک بھی پرندہ

انہیں دیکھنے ان کی شاخوں میں

آرام کرنے کو تیار ہرگز نہیں تھا

کبھی کوئی پھولے پروں والی

اک پھول سی فاختہ

ان کی شاخوں کی جانب امنڈتی

تو بو سے پریشان ہو کر

فلک کی طرف تیر بن کر

کچھ اس طور جاتی

کہ جیسے وہ واپس زمیں پر نہیں آئے گی

اور اب حال یہ ہے

پھلا ہی کے کیکر کے بیری کے سب پیڑ

ان آنے والوں سے گھبرا کے

جانے کہاں چل دئے ہیں

گھنے سبز شیشم کے چھتنار مرجھا گئے ہیں

اگر کوئی برگد یا پیپل کا

اک آدھ ہیکل

کسی کونے کھدرے میں

آنکھوں کو میچے

پروں کو سمیٹے کھڑا ہے

تو کیا ہے

اسے کب کسی آنے والے

چلے جانے والے سے کوئی تعلق رہا ہے

جو یوں ہے تو آؤ چلیں

آنے والوں سے چل کر ملیں

ان سے پوچھیں

کہاں سے تم آئے ہو بھائی

ارادہ ہے کب تک یہاں ٹھہرنے کا

وزیر آغا

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(343) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Wazir Agha, Kahan Se Tum Aaye Ho Bhai in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 101 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.5 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Wazir Agha.