Marey Hoon Say Daro Nahi

مرے ہوؤں سے ڈرو نہیں

رے ہوؤں سے ڈرو نہیں

یہ کہا تھا تم نے

جو مر گئے

وہ زمیں کے اندر اتر گئے

ان مرے ہوؤں کی بھٹکتی پھرتی

خوشی غمی کے عذاب سہتی

نحیف روحوں سے ڈرنا کیسا

کہا تھا تم نے

نہیں

میں ڈرتا نہیں ہوں ان سے

بھٹکتی پھرتی

زمیں کا چکر لگاتی روحوں سے خوف کیسا

جو خود پتنگے کے کرب میں مبتلا ہوں ان سے

کسی کو خطرہ نہیں ہے کوئی

مگر میں ڈرتا ہوں ان کے ڈھانچوں سے

جو زمین میں اتر گئے تھے

زمیں کے پاٹوں میں پس گئے تھے

وہ خشک ڈھانچے کہ آج آسیب بن گئے ہیں

زمیں کے اندھے کنویں سے باہر نکل پڑے ہیں

نہیں یہ روحیں نہیں ہیں بھائی

یہ سب دھوئیں کے کثیف حلقے ہیں

بھوت ہیں ان مرے ہوؤں کے

جو سبز دھرتی کے گرد چکر لگا رہے ہیں

جو گرم بوجھل مہیب سانسوں

کی پرچھائیوں سے

زمیں کا پنڈا جلا رہے ہیں

دیا زمیں کا بجھا رہے ہیں

وزیر آغا

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(383) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Wazir Agha, Marey Hoon Say Daro Nahi in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 101 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.1 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Wazir Agha.