Samandar Agar Mare Andar A Giray

سمندر اگر میرے اندر آ گرے

سمندر اگر میرے اندر آ گرے

تو پایاب لہروں میں ڈھل کے سلگنے لگے

پیاس کے بے نشاں دشت میں

وہیل مچھلی کی صورت تڑپنے لگے

ہارپونوں سے نیزوں سے چھلنی بدن پر

دہکتی ہوئی ریت کے تیز چر کے سہے

اور پھر ریت پر جھاگ کے کچھ نشاں چھوڑ کر

تا ابد سر بریدہ سے ساحل کے سائے میں

ہونے نہ ہونے کی میٹھی اذیت میں کھویا رہے

یہ ہونے نہ ہونے کی میٹھی اذیت بھی کیا ہے

نگاہیں اٹھاؤں تو حد نظر تک

ازل اور ابد کے ستونوں پہ باریک سا ایک خیمہ تنا ہے

نہ ہونے کا یہ روپ کتنا نیا ہے

اور خیمے کے اندر

کروڑوں ستاروں کا میلہ لگا ہے

یہ ہونے کا بہروپ لا انتہا ہے

مرا جسم

ریشم کا صد چاک خیمہ

کسی بے کراں دشت میں بے سہارا کھڑا ہے

مگر جب میں آنکھیں جھکاؤں

تو اس سرد خیمے کے اندر

کروڑوں تڑپتے ہوئے تند ذروں کا اک دشت پھیلا ہوا ہے

یہ ہونے نہ ہونے کی میٹھی اذیت

عجب ماجرا ہے

وزیر آغا

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(393) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Wazir Agha, Samandar Agar Mare Andar A Giray in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 101 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 5 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Wazir Agha.