Dil Be Taab Ko Kab Wasal Ka Yaara Hota

دل بے تاب کو کب وصل کا یارا ہوتا

دل بے تاب کو کب وصل کا یارا ہوتا

شادیٔ دولت دیدار نے مارا ہوتا

شب غم زہر ہی کھانے کا مزہ تھا ورنہ

انتظار سحر وصل نے مارا ہوتا

شب ہجراں کی بلا ٹالے نہیں ٹلتی ہے

بھور کر دیتے اگر زور ہمارا ہوتا

آئی جس شان سے مدفن میں سواری میری

دیکھتے غیر تو مرنا ہی گوارا ہوتا

کیوں نہ سینے سے لگی رہتی امانت تیری

داغ دل کیوں نہ ہمیں جان سے پیارا ہوتا

سر جھکائے تری امید پہ بیٹھے ہیں ہم

قاتل اس بار امانت کو اتارا ہوتا

ایک ہو جاتی ابھی کافر و دیں دار کی راہ

اگر ان جٹی بھوؤں کا اک اشارا ہوتا

بھیگتی جاتی ہے رات اور ابھی صحبت ہے گرم

جام لب ریز اسی عالم میں ہمارا ہوتا

نگہ لطف سے محروم ہوں اب تک ساقی

صف آخر کی طرف بھی اک اشارا ہوتا

دور سے ساغر و مینا کو کھڑا تکتا ہوں

دل کوئی رکھتا تو مجھ کو بھی پکارا ہوتا

دور اتنی نہ کبھی کھنچتی عدم کی منزل

کاش کچھ نقش قدم ہی کا سہارا ہوتا

یاس اب آپ کہاں اور کہاں بانگ جرس

کون اس وادئ غربت میں تمہارا ہوتا

دیکھتے رہ گئے یاسؔ آپ نے اچھا نہ کیا

ڈوبتے وقت کسی کو تو پکارا ہوتا

صورت ظاہری اک پردۂ تاریک تھی یاسؔ

حسن معنی کا کن آنکھیوں سے نظارہ ہوتا

یگانہ چنگیزی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(279) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Yagana Changezi, Dil Be Taab Ko Kab Wasal Ka Yaara Hota in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 45 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.9 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Yagana Changezi.