Chand Ki Be Basi Ko Samjhun Gi

چاند کی بے بسی کو سمجھوں گی

چاند کی بے بسی کو سمجھوں گی

روشنی کی کمی کو سمجھوں گی

ایک پتھر سے دوستی کر کے

آپ کی بے رخی کو سمجھوں گی

میں چراغوں کو طاق پر رکھ کر

حاصل زندگی کو سمجھوں گی

اس بدن کا طلسم ٹوٹے تو

پھول کی تازگی کو سمجھوں گی

لوگ کہتے ہیں جب مجھے بے حس

میں بھلا کیوں کسی کو سمجھوں گی

فون پر بات ہو گی فرصت سے

اور اک اجنبی کو سمجھوں گی

مجھ سے امید مت لگاؤ تم

میں نہیں،جو سبھی کو سمجھوں گی

جا کے دریا کنارے بیٹھوں گی

شور میں خامشی کو سمجھوں گی

میں سہولت پسند ہوں زہرا

آپسی دشمنی کو سمجھوں گی

گھٹنے والے تھے جب عذاب مرے

آ گئے یاد مجھ کو خواب مرے

ایک پہلو میں سو رہے ہیں وہ

ایک پہلو میں ہے کتاب مرے

ناپ لیں گے اب اور کتنی بار

کپڑے سی دیجئے جناب مرے

عشق اگر رائیگاں ہوا تو کیا

آ ج بچے ہیں کامیاب مرے

ویسے بھی آپشن نہیں تھا کوئی

بن گئے تم ہی انتخاب مرے

میرے گالوں تک آ گیا ہے وہ

چومتے چومتے گلاب مرے

زہرہ قرار

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(689) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Zahra Qarar, Chand Ki Be Basi Ko Samjhun Gi in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 3 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 5 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Zahra Qarar.