شادی ٹوٹی ہے،دل نہیں․․․

معروف اداکارہ جاناں ملک کہتی ہیں شادی کرناضروری تھا مگر قسمت خراب تھی اس لئے چل نہیں سکی تاہم اس حادثے سے دلبرداشتہ ہو کر میں نے دل کے دروازے بند نہیں کئے

بدھ 14 جون 2017

زارا مصطفی:
گورارنگ،بڑی بڑی آنکھوں اور لمبے بالوں کے ساتھ 13سال کی عمر سے شوبز انڈسٹری میں قدم رکھنے والی خوبرو حسینہ جاناں ملک کی شہرت کا آغاز تو ڈرامہ سیریل”بلندی“ سے ہوا مگر ان کا پہلا ڈرامہ سیریل ”ریگ زار“تھا۔
جاناں نے ماڈلنگ،ہوسٹنگ اور فلموں میں اداکاری کا تجربہ بھی کیا مگر ڈراموں میں اداکاری کے علاوہ جاناں کو کسی اور کام میں مزہ نہیں آیا۔

جاناں کے دیگر مشہور زمانہ ڈراموں میں میگھ ملہار،لنڈابازار،اعتراف،جہیز،ٹوپی ڈرامہ،ابنِ آدم،کس دن میرا ویاہ ہوئے گا؟مرجائیں بھی تو کیا؟ ادھورا ملن،دل دے دل تک،کانچ کے پر،قصہ چاردرویش،ناگن،حنا کے رنگ اور میرے حضور شامل ہیں۔جہاں پاکستان کی ہردوسری اداکارہ فلموں میں نمایاں کرداروں کے لئے ڈائریکٹرز اور پروڈیوسرز کی منت سماجت کررہی ہیں وہیں جاناں بڑی جرأت مندی سے کہتی ہیں کی وہ فلمی ہیروئن بننے کی بجائے کسی ٹی وہ شو کی میزبانی کرنا چاہتی ہیں۔

(جاری ہے)

جانا ں نے 2016 میں گلوکار اور موسیقار نعمان جاوید سے شادی کی مگر بدقسمتی سے چھ ماہ کے اند رہی ان کے راستے جدا ہو گئے بہر حال جاناں اب زندگی کے اس بڑے حادثے سے باہر نکل آئی ہیں اور زندگی کو ایک نئے انداز سے جینے کے لئے خاصی پُرامید دکھائی دیتی ہیں۔
سوال:آپ بچپن سے ہی بڑے اور سنجیدہ کردار خوبصورتی سے پردہٴ سکرین پر نبھا رہی ہیں،بچپن پیچھے چھوٹ جانے کا افسوس تو ہوتا ہوگا؟
جاناں ملک:(ذرا سنجیدہ ہوکر)صرف بچپن پیچھے چھوٹ جانے کا افسوس نہیں اور بھی بہت کچھ پیچھے رہ گیا ہے۔

اور شاید زندگی آگے بڑھنے کا نام ہی ہے۔میں اکلوتی ہونے کے علاوہ بہت چھوٹی تھی ،جب میرے والدین میں طلاق ہوئی،میں نے سوچ لیا مجھے ہی امی کا سہار بننا ہے۔ٹی وی پر مجھے خاور ایوب نے متعارف کروایا تھا۔ویسے بھی اس عمر میں پیسے کمانے کا ذریعہ مل جائے تو کسی ضرورت مند بچے کو اور کیا چاہیے․․․یہ وہ دور تھا جب مجھے کتابیں پڑھنے کا اتنا شوق تھا کہ میں نے کتابیں پڑھ پڑھ کر عینک لگوا لی تھی۔

بچپن کا یہ دور یاد کرو تو احساس ہوتا ہے کہ شہرت کہ چکا چوند میں وہ بچی کہیں کھو گئی جسے پڑھنے لکھنے کا شوق تھا،جو فارغ وقت میں دماغ لڑانے والے کھیل شوق سے کھیلتی تھی مگر پھر اس بے فکری کی جگہ دائیں بائیں کی پریشانیوں نے لے لی۔
سوال:تو کیا پھر پڑھائی کا سلسلہ یہیں رک گیا؟
جاناں ملک :نہیں پڑھائی رکی تو نہیں جب مجھے شہرت اور پیسے ایک ساتھ ملنے لگے تو پڑھائی میں دلچسپی نسبتاََ کم ہوتی گئی اور مطالعہ کی عادت صرف مشغلے کی حد تک رہ گئی لیکن پھر بھی مصروفیات کے باوجود میں نے لاہور ہی گریجوایشن بھی کر لیا مگر اعلیٰ تعلیم کی جستجو ختم ہوگئی۔


سوال:اس وقت کبھی یہ سوچا تھاکہ”بلندی“سے اتنی بلندی ملے گی کہ یہ ڈرامہ کئی دہائیوں تک لوگوں کو یاد رہ جائے گا؟
جاناں ملک:اس وقت میں تو کیا باقی سب کے لئے بھی یہ معمول کے مطابق ایک عام سا پراجیکٹ ہی تھا اور سبھی لوگ اپنی طرف سے بھرپور محنت کر رہے تھے،سیٹ پر کبھی کسی کے گھر سے کھانا آتا تو کبھی کسی کے․․․شوٹنگ کا موڈ نہ ہوتا تو ہم سب مل کر کرکٹ کھیلنے لگتے۔

فیصل رحمن کے علاوہ ینگ کاسٹ میں ہم سب نئے تھے جیسے میں ،کاشف اور فرحانہ․․․ہم تینوں کو ”بلندی“کی کامیابی کے بعد بہت اچھے پراجیکٹس ملے یوں کہیں کہ بلندی کے بعد ہمارے کیریئر کی ایک نئی شروعات ہوئی۔
سوال:اس کا مطلب اداکاری سے آپ کو کچھ خاص ہی محبت ہے؟
جاناں ملک:(قہقہ لگاتے ہوئے)ہاں یہی سمجھ لیں کیونکہ یہ وہ کام ہے جس میں مجھے کردار کو سمجھ کر اپنی ذات کا حصہ بنانا چیلنجنگ کام لگتا ہے۔

یوں کہیں کہ ایکٹنگ جذبات کا کھیل ہے یعنی ہنسنے کو دل نہ بھی چاہے تو ہنسنا پڑتا ہے رونے کو دل نہ کرے لیکن رونا پڑتا ہے مجھے اس کام میں مزا آتا ہے۔
سوال:شادی کا فیصلہ کرنے میں اتنی دیر کیوں لگا دی؟
جاناں ملک:واقعی مجھے دوسرے اداکاروں کی نسبت جلدی شہرت تو مل گئی مگر شادی کا خیال نہیں آیا کیونکہ میرے اوپر بہت سی ذمہ داریاں تھیں۔

میں نے اپنے آپ سے وعدہ کررکھا تھا کہ خود اپنے پاؤں پر کھڑی ہوں گی،کسی کی مدد نہیں لوں گی،اپنا گھربناؤں گی بس پھر یہ سب کرتے کرتے بہت سال گزر گئے اور شادی کا وقت ہی نہیں ملا۔
سوال:سارے خوابوں کو پورا کرکے دیر سے شادی کرنا اور ناکام ہونا،دل تو دُکھا ہوگا؟
جاناں ملک:(مسکراتے ہوئے)کہتے ہیں ہر تجربے سے انسان کچھ نہ کچھ سیکھتا ہے۔

شادی کرنا ضروری تھی اس لئے کرلی،قسمت میں نہیں تھی اس لئے چل نہیں سکی۔مورمحل کی شوٹنگ کے دوران نعمان جاوید سے دوستی ہوگئی اور جب انہوں نے مجھے شادی کی پیشکش کی تو میں نے سوچنے میں زیادہ وقت نہیں لیا۔ویسے بھی ان دنوں میں مورمحل سیریز کی ناکامی کے بعد کافی دلبرداشتہ ہوئی تھی۔اور مجھے کسی جذباتی سہارے کی ضرورت تھی اس لئے مجھے لگا اب شاید زندگی میں تھہراؤ کا وقت آگیا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جب نعمان نے مجھ سے کہا کہ میں کوئی افیئر نہیں چاہتا،میں نے بھی سوچا اس انسان کے دل میں میرے لئے کتنی عزت ہوگی مگر افسوس شادی کے دو ہفتے بعد ہی ہماری دوستی ختم ہوگئی اور صرف میاں بیوی کا رشتہ رہ گیا اور وہ روایتی شوہروں کی طرح ہر بات پر مجھ سے شکوے شکایتیں کرنے لگے،میں کام بھی کررہی تھی،ان کی ضروریات کا خیال بھی رکھتی تھی ،صبح چھ بجے وہ ناشتہ کرنے کے عادی تھے،میں کام پر جانے سے پہلے انہیں ناشتہ کروا کر جاتی لیکن پھر بھی جو چیزیں میرے لئے اہم تھیں وہ انہیں نظر انداز کر دیتے․․طرح طرح کی پابندیاں لگاتے،یہ نہ کرو ،وہ نہ کرو، اس سے ملو،اس سے نہ ملو، بس پھر مجھے احساس ہوگیا کہ ان کی اور میری ترجیحات مختلف ہیں؟اس لئے میں ان گے گھر میں سوا مہینہ رہنے کے بعد واپس اپنے گھر میں آگئی اور چار پانچ ماہ گزرنے کے بعد ہم نے باہمی رضا مندی سے طلاق کی بات طے کرلی تھی اور میں سامان پیک کروا کر امی کے گھر واپس آگئی تھی 12 مارچ کو کاغذات ملے اور ایک ہفتے بعد میری ہی طرف سے ٹی وی چینلز پر میری طلاق کی خبر بریکنگ نیوز بنی ہوئی تھی حالانکہ ہم نے یہ طے کیا تھا کہ اپنا انتہائی ذاتی معاملہ میڈیا کی سرخیوں میں نہیں لائیں گے مگر․․․․․
سوال:چلاق کا فیصلہ دشوار تو ہوا ہوگا؟
جاناں ملک:طاہر ہے طلاق کے بارے میں کہاں سوچا تھا بہت روئی،پریشان ہوئی لیکن بچپن سے حالات سے لڑنے کی عادی ہوں،بہادر ہوں،خوداعتماد ہوں اس لئے خود اپنے آپ کو سنبھالا اور پھر مسکرانا سیکھ لیا کیونکہ مجھے پتہ ہے اپنا گھر مجھے ہی سنبھالنا ہے،بجلی اور گیس کے بل خود ہی جمع کروانے ہیں،گھر کا سودا سلف لانے کی فکر بھی مجھے ہی ہے․․․اکثر ایسا ہوتا ہے کہ میں کوئی سین ریکارڈ کروارہی ہوتی ہوں اور امی کی کال آجاتی ہے کہ بیٹا آتے ہوئے انڈے اور بریڈ لے آنا،دودھ ختم ہوگیا ہے․․․شادی کرکے بھی مجھے ہی یہ سب کرنا ہے تو پھر ایسی شادی کا فائدہ ہی کیا؟
سوال:تو کیا دوبارہ شادی نہیں کریں گی؟
جاناں ملک:(مسکراتے ہوئے)اگر دوبارہ قسمت میں ہوئی تو کرلوں گی فی الحال کچھ سوچا نہیں ۔

ویسے سوچا تو پہلے بھی نہیں تھا،وقت کا دھارا جس طرف لے کر چلا میں چل پڑی․․․ابھی بھی فیصلہ قسمت پر چھوڑ رکھا ہے،ہاں مگر ایک حادثے سے دلبرداشتہ ہو کر میں نے دل کے سارے دروازے بند تو نہیں کردئیے،سرِراہ کوئی مل گیا تو ضرور سوچوں گی ورنہ زندگی یوں بھی اچھی گزر رہی ہے۔
فٹنس کا خیال کیسے رکھتی ہیں؟
جاناں ملک:میں ڈائیٹنگ نہیں کرتی کیونکہ میرا خیال ہے کھانا چھوڑنے کی بجائے زندگی گزارنے کے لئے صحت مند انداز اپنانے چاہئیں کیونکہ میرے نزدیک فٹ رہنے کے لئے کھانے پینے کی عادات اچھی ہونا بہت ضروری ہیں۔

ویسے لاہوری ہونے کی وجہ مجھے دیسی کھانے بہت پسند ہیں لیکن مغرب کے بعد میں صرف پانی،بادام اور کھجوریں کھاتی ہو مجھے گرین ٹی پسند نہیں مگر دوائی سمجھ کر پی لیتی ہوں،ملٹی وٹامنز کا خیال رکھتی ہوں،ایکسرسائز ضرورکرتی ہوں،چاہے آدھا گھنٹہ ہی کیون نہ ہو،مجھے یوگا کرنا اچھا لگتا ہے ،سوئمنگ بھی کرتی ہوں اور یہی میری فٹنس کا راز ہے۔
سوال:مستقبل کے بارے میں کیا سوچاہے؟
جاناں ملک:کچھ خاص نہیں،بہت سادہ سی بات ہے کہ مجھے خوش رہنا ،لوگوں کی دعائیں لینی ہیں ،بہت کام کرنا ہے ۔

طلاق کے حادثے کے بعد لوگوں نے مجھ سے بہت محبت اور ہمدردی کا اظہار کیا اور مجھے حوصلہ دیا کہ سب ٹھیک ہوجائے گا اور اب ہی لگتا ہے کہ واقعی سب ٹھیک ہوجائے گا۔ان باتوں سے میرا دل بڑا ہوگیا ہے آخر اللہ تو کسی پر ظلم نہیں کرتا،اسی یقین سے مجھے آگے بڑھنا ہے۔ٹھوکر لگتی ہے تو تکلیف بھی ہوتی ہے مگر کیا کروں میری آمدنی کا کوئی اور ذریعہ نہیں ہے،مجھے ایکٹنگ ہی آتی ہے اس لئے تلخ تجربات بھی مجھے ٹوٹنے نہیں دیتے،ویسے بھی ابھی بہت سی کتابیں بڑھنی ہیں،اس لئے پُر امید ہوں کے ایک دن مجھے بھی میری کوششوں کا صلہ ضرور ملے گا۔ہاں ایک خواہش ہے کہ اب میں بھی دوسری مشہور اداکارؤں کی طرح ٹی وی شوز کی میزبانی کروں۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :